Ripples of the society
الرسالہ، اگست ۲۰۰۲
خبرنامہ اسلامی مرکز ۱۵۵
کشمیر کے ایک نوجوان اپنے خط مورخہ ۱۱ نومبر ۲۰۰۱ء میں لکھتے ہیں کہ کشمیر میں الرسالہ کا نقطۂ نظر تیزی سے پھیل رہا ہے۔ لوگ عام طور پر اُس کو قبول کرتے جا رہے ہیں۔ اور اٗس کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں۔ ایک بہت بڑے سیمینار میں میں نے آپ کا نام لے کر الرسالہ کے نقطۂ نظر کو برملا پیش کیا تو قدیم روایت کے خلاف کوئی شخص بھی تردید کے لیے نہ اُٹھا۔ ہندی اخبار ویر ارجن (دہلی) کے نمائندہ سنجے رائے نے فروری ۲۰۰۲ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ اجودھیا کے مسئلہ پر کوئی فریق سنجیدہ نہیں اسی لیے یہ مسئلہ اب تک حل نہ ہوسکا۔ کسی مسئلہ کے حل کے لیے سنجیدگی لازمی شرط ہے۔ نئی دہلی کے ایجوکیشن میگزین (Educare) کی اسسٹنٹ ایڈیٹر مس میہا مہتا نے ۲۶ اپریل ۲۰۰۲ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اس مسئلہ سے تھا کہ ہندوستان میں جو فرقہ وارانہ فسادات ہوتے ہیں اس میں تعلیم یا تعلیم یافتہ افراد کا رول کیا ہے۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ اس مسئلہ کا اصل سبب تعلیم میں پچھڑا پن ہے۔ تعلیم عورت اور مرد کو باشعور بناتی ہے۔ اور باشعور انسان اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ معاملات میں جذباتی کارروائی نہ کرے بلکہ سوچ سمجھ کر مسئلہ کو ختم کرے ۔ اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ جب کوئی مسئلہ پیدا ہو تو تعلیم یافتہ افراد غیر جانب دارنہ رہیں بلکہ موقع پر پہنچ کر تناؤ کو ختم کرنے کی کوشش کریں۔ گاندھی سمیتی (برلا بھون، نئی دہلی) میں ۲۲۷ اپریل ۲۰۰۲ کو ایک جلسہ ہوا۔ اس کا موضوع تھا کہ ملک میں امن واتحاد کیسے قائم کیا جائے۔ صدر اسلامی مرکز نے اس کی دعوت پر اس میں شرکت کی اور امن واتحاد کے سوال پر ایک تقریر کی۔ تقریر کے دوران انہوں نے یہ حدیث سنائی: المسلم من سلم الناس من لسانه ويده (مسلمان وہ ہے جس کی زبان سے اور جس کے ہاتھ سے لوگ محفوظ ہوں) وشو ہندی پرتشٹھان،کرن کرن بھون، نئی دہلی میں ۷ اپریل ۲۰۰۲ کو ڈاکٹر ستیہ بھارگو کی کتاب
‹ Previous page Next page › Contents of August 2002 All issues