Ripples of the society
الرسالہ، اگست ۲۰۰۲
”راشٹریہ ایکتا میں سنگیت کی بھومیکا“ کے اجراء کے لیے ایک فنکشن ہوا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور راشٹریہ ایکتا کے موضوع پر ایک تقریر کی۔ اٹلی کے ادارہ کلچرل اسوسی ایشن آف آرمونیا (Cultural Association of Armonia) کی طرف سے وینس میں ۳-۵ مئی ۲۰۰۲ کو ایک انٹرنیشنل کانفرنس ہوئی۔ اس کا موضوع تھا امن اور روحانیت (Peace and Spirituality)۔ اس کانفرنس میں شرکت کے لئے صدر اسلامی مرکز کو مدعو کیا گیا تھا۔ مگر وہ اپنی بعض مصروفیات کی بنا پر اس میں شرکت نہ کر سکے۔ البتہ موضوع سے متعلق ایک پیپر انہیں ای۔ میل کے ذریعہ بھیج دیا گیا۔
تریوندرم (کیرلا) میں ۴-۶ مئی ۲۰۰۲ کو ایک آل انڈیا کا نفرنس ہوئی۔ اس کانفرنس کا انتظام شانتی گری آشرم کی طرف سے کیا گیا تھا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور امن اور روحانیت کے موضوع پر اپنے خیالات کا مفصل اظہار کیا۔ ترّن بھارت سنگھ اور بھاگیرتھی فاؤنڈیشن کے تعاون کے تحت جودھ پور میں ۱۰-۱۱ مئی ۲۰۰۲ کو ایک نیشنل سیمینار ہوا۔ اس کا موضوع تھاـــــــ مذہب اور پانی (Religion & Water)۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور مذکورہ موضوع پر اسلامی تعلیمات کی روشنی میں تقریر کی۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں بتایا گیا کہ پانی اللہ کی ایک نعمت ہے۔ مختلف حدیثوں کے حوالے دیئے گئے۔ مثلاً: ’’سب سے اچھا صدقہ پانی ہے‘‘۔ ’’پانی کو فروخت نہ کرو‘‘۔ ’’پانی کو گندہ نہ کرو‘‘۔ ’’پانی سے کسی کو نہ روکو‘‘۔ ’’پانی کو مسرفانہ طور پر خرچ نہ کرو خواہ تم ایک بہتے ہوئے دریا کے کنارے ہو۔ ‘‘ جودھ پور کے سفر میں ۱۱ مئی ۲۰۰۲ کو آل انڈیا ریڈیو اور اسٹارٹی وی نے صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ دونوں کے سوالات کا تعلق زیادہ تر اس مسئلہ سے تھا کہ فطرت (Nature) کے متوازن استعمال کے لئے اسلام کی تعلیمات کیا ہیں۔ قرآن نے اس سلسلہ میں جو احکام دئے ہیں ان میں سے ایک اصولی حکم یہ ہے: لا تفسدو ا فی الارض بعد اصلاحھا ۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2002 All issues