Al-Risala · August 2002 · page

Ripples of the society

الرسالہ، اگست ۲۰۰۲

اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا نے زمین کو اصلاح یافتہ صورت میں بنایا ہے۔ اس کی ہر چیز نہایت صحیح تناسب (right proportion) میں ہے۔ فطرت کے اس توازن کو برقرار رکھو۔ اس توازن کو بگڑنے نہ دو۔

۱۰ نئی دہلی کے ہندی اخبار راشٹریہ سہارا کے نمائندہ مسٹرونے کمارٹھاکر نے ۱۲ مئی ۲۰۰۲ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر مسلم پرسنل لا سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ نکاح و طلاق کے معاملات میں اصولاً مسلم جج کو فیصلہ دینا چاہئے مگر جب مسلم جج قابل حصول نہ ہو تو سیکولر عدالت کے جج کے ذریعہ انصاف کا حصول تغیر الاحکام بتغیر الزمان والمکان کے تحت جائز قرار پائے گا۔

۱۱ جین ٹی وی (نئی دہلی) کی ٹیم نے ۱۹ مئی ۲۰۰۲ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اسلام میں نکاح و طلاق کے مسائل سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ اسلام کا قانون اپنے آپ میں مکمل اور ابدی ہے۔ البتہ مسلمان اس کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ اس لیے ریفارم کی ضرورت مسلمانوں کے لیے ہے، نہ کہ اسلام کے لیے۔ ۱۲ ای ٹی وی (نئی دہلی) کے نمائندہ مسٹر اے- باری مسعود نے ۲۰ مئی ۲۰۰۲ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی اور جنگ کے امکانات سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ دونوں کے درمیان جنگ نہیں ہوگی۔ مزید یہ کہ موجودہ زمانہ میں جنگ ہارنے والے کے لیے بھی تباہی ہے اور جیتنے والے کے لیے بھی تباہی۔

۱۳ آل انڈیا ریڈیو (نئی دہلی) نے ۵ جون ۲۰۰۲ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ موضوع یہ تھا: اسلام میں امن اور اتحاد کی تعلیم۔ ایک سوال کے جواب میں یہ حدیث بتائی گئی کہ المؤمن من أمنه الناس (مومن وہ ہے جس سے لوگ امن میں ہوں)۔

۱۴ جامعہ ہمدرد (دہلی) میں ۱۵ جون ۲۰۰۲ کو ایک سیمینار ہوا۔ اس میں جامعہ کے طلبہ اور اساتذہ

‹ Previous page Next page › Contents of August 2002 All issues

Printed page