Al-Risala · January 2002 · page 40

ہم الزام ان کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۲، صفحہ ۴۰

کہ بنگلہ دیش میں بھی تقریبا وہی صورتِ حال ہے جو پاکستان میں پائی جاتی ہے۔ دونوں ملکوں کے مسلمان دو طبقوں میں بٹ کر ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہیں ـــــ اسلام پسند گروہ اور سیکولر گروہ، دونوں ایک دوسرے کے خلاف بے رحمانہ حد تک شدید احساسات رکھتے ہیں۔ سیکولر گروہ اسلام پسندوں کو غیر ملکی ایجنٹ سمجھتا ہے۔ دوسری طرف اسلام پسندوں کا یہ حال ہے کہ ایک اسلام پسند تاجر نے بنگلہ دیش کے سیکولر افراد کو شبہ کا کافر (Semi Kafir) قرار دیا۔ عجیب بات ہے کہ یہی مسلمان ہندوستان میں نسبتاً مل جل کر رہ رہے ہیں۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ ہندوستان میں غیر مسلم اکثریت کا دباؤ ہے۔ اس طرح پورے برصغیر ہند کے مسلمان یورپ اور امریکہ میں پر امن طور پر رہ رہے ہیں۔ اس کا سبب یقینی طور پر یہی ہے کہ وہاں انہیں غیر مسلم اقتدار کے دباؤ کے تحت رہنا پڑتا ہے۔ اس بات کا ذکر میں نے ایک صاحب سے کیا تو ان کا تبصرہ یہ تھا۔ یہ مسلمان اللہ سے نہیں ڈرتے مگر وہ اللہ سے نہ ڈرنے والوں سے ضرور ڈرتے ہیں۔

۳ جون کی صبح کو واپسی کا دن تھا۔ صبح کو حسبِ معمول دو رکعت نماز پڑھ کر یہ دعا کی کہ: اللهم انت الصاحب فى السفر وانت الخليفة فى الاهل۔ اس کے بعد ہوٹل شرٹین سے صبح ۹ بجے روانہ ہو کر ہم لوگ ڈھا کہ ائر پورٹ پہنچے۔ مجھے میرے ساتھی نے ائر پورٹ کے لاؤنج میں بٹھا دیا۔ اور خود رسمی کارروائی کو انجام دے کر مجھے بورڈنگ پاس دیا اور کہا کہ اب آپ ہوائی جہاز کے اندر داخل ہو کر اپنی سیٹ لے سکتے ہیں۔ میرے دل نے کہا کہ کاش آخرت میں بھی ایسا ہی ہو اور اللہ کے فرشتے مجھے وہاں کی کارروائی سے بچا کر کہیں کہ جاؤ، اب ابدی جنت میں داخل ہو جاؤ۔

ڈھا کہ سے کلکتہ کا سفر ومان بنگلہ دیش کے ذریعہ ہوا۔ اس بار جہاز بھی اچھا تھا اور اس کی سروس بھی بہتر تھی۔ ہم لوگ تقریباً ساڑھے ۱۲ بجے کلکتہ ائر پورٹ پر اتر گئے۔ ۳ جون کی شام کو کلکتہ ائر پورٹ پر جہاز کے انتظار میں لاؤنج میں بیٹھا ہوا تھا۔ میرے

‹ Previous page Next page › Contents of January 2002 All issues

Printed page