Al-Risala · September 2002 · page 15

Speech at London Conference

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۲، صفحہ ۱۵

خوبصورت مکانات تھے یا سرسبز مناظر۔ مغربی ملکوں کی سڑکیں عام طور پر اسی قسم کی ہوتی ہیں۔ مگر ہندوستان میں ابھی تک وہ حال ہے جس کا نقشہ ایک شاعر نے ان الفاظ میں کھینچا ہے: آگے ہیں قدم پیچھے ہے نظر جانا ہے کہاں جاتے ہیں کدھر مبہم ہے یہاں خود سمت سفر نیرنگ زمانہ کیا کہے برمنگھم میں میرا قیام جناب شمشاد محمد خاں صاحب کی رہائش گاہ پر تھا۔ وہ دعوتی مزاج رکھتے ہیں۔ اور کامیاب طور پر یہاں ایک دعوتی مرکز چلا رہے ہیں جس کا نام اسلامک پروپیگیشن سنٹرانٹرنیشنل (IPCI) ہے۔ یہ سنٹر ایک بڑی بلڈنگ کے اندر واقع ہے۔ اس کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ اس مرکز کی مختلف سرگرمیوں میں سے ایک یہ ہے کہ ہر گھر میں دعوت کا پیغام پہنچ جائے۔ اس اسکیم کو وہ ڈور ٹو ڈور ڈور لیفلیٹ ڈراپ (door to door leaflet drop) کہتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے پورے ملک میں وسیع پیمانہ پر ایک منظم جدوجہد جاری ہے۔ اس دعوتی مرکز کی سرگرمیوں کو دیکھنے کے بعد میں نے سوچا کہ غالباً یہی وہ عمل ہے جس کا ذکر حدیث میں اس طرح آیا ہے کہ دنیا کا کوئی چھوٹا یا بڑا گھر نہ ہوگا جس کے اندر اسلام کا کلمہ نہ پہنچ جائے۔ میں نے برادر شمشاد محمد خاں صاحب سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ اس حدیث کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ ساری دنیا میں اسلام کی حکومت قائم ہو جائے گی۔ مگر یہ مذکورہ حدیث کو خود ساختہ طور پر سیاسی مفہوم دینا ہے۔ اس حدیث کا مطلب واضح طور پر کلمۂ اسلام کا ہر گھر میں داخل ہونا ہے، نہ کہ اسلامی اقتدار کا ہر گھر کے اوپر قائم ہونا۔

اسلامک پروپیگیشن سنٹرانٹرنیشنل کے تحت جو کام ہو رہے ہیں اُن میں سے ایک یہ ہے کہ یہ لوگ قرآن کا انگریزی ترجمہ کرکے ممتاز افراد تک پہنچاتے ہیں۔ برادر م شمشاد محمد خاں صاحب نے بہت سے خطوط دکھائے جن میں اسلام کے بارے میں لوگوں کے بہت اچھے تاثرات درج تھے۔ مثلاً ایک انگریزی لارڈکنگس ڈاؤن (Lord Kings Down) نے اپنے خط مورخہ ۱۵ اکتوبر ۲۰۰۱ میں لکھا: I have felt for years that I ought to try to study this great work and would be pleased to have the opportunity now at this critical time.

‹ Previous page Next page › Contents of September 2002 All issues

Printed page