Speech at London Conference
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۲، صفحہ ۱۶
ایک خوبصورت نسخہ دیا تھا مگر اس میں ترجمہ شامل نہ تھا اس لیے میں اُس کو پڑھ نہیں سکا تھا: Although it is a much treasured book, I am unable to read it. برمنگھم میں رہنے والی ایک مسلم خاتون محترمہ نسیم اختر صاحبہ نے اپنا ایک مجموعہ کلام دیا۔ یہ مجموعہ ۳۲۰ صفحات میں لاہور سے چھپا ہے اور اس کا نام ہے درد کا ایک شہر ۔ اس مجموعہ میں محبت و انسانیت اور صوفیانہ تصورات کی عکاسی نظر آتی ہے۔ مثلاً اس کا ایک شعر یہ تھا: مجھے ادھورے سفر سے نجات کی خاطر خود اپنے پاؤں کا کانٹا نکالنا ہوگا اس شعر میں زندگی کی ایک اہم حقیقت کی ترجمانی کی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب بھی کوئی فرد یا قوم زندگی کے سفر میں پچھڑ جائے تو اس کا سبب دوسروں کی سازش یا عداوت نہیں ہوگی۔ اس کا سبب یقینی طور پر خود اپنی کوتاہیاں ہوں گی۔ ایسی حالت میں اپنی ساری توجہ اپنی کوتاہیوں پر مرکوز کرنا ہوگا۔ دوسروں کی سازش اور کوتاہیوں کا اعلان صرف وقت کے ضیاع کے ہم معنیٰ ہے جس کا نتیجہ اپنی محرومی میں اضافہ کے سوا اور کچھ نہیں۔
برمنگھم میں ایک اور خاتون مسز نجمہ ملاقات کے لئے آئیں۔ وہ یہاں کی مقامی پالیٹکس میں ایک لیڈر کی حیثیت سے مشہور ہیں۔ اُن سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اُن کو میں نے مشورہ دیا کہ آپ اپنی صلاحیت کو پالیٹکس کے میدان میں استعمال کرنے کے بجائے دعوت کے میدان میں استعمال کریں۔ برمنگھم، آبادی کے اعتبار سے برطانیہ کا دوسرا سب سے بڑا شہر ہے۔ وہ اقتصادی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ اٹھارویں صدی کے آخر میں برمنگھم صنعتی انقلاب کا مرکز بن گیا۔ لوہے اور انجینئرنگ کی تجارت میں اُس نے نمایاں حیثیت حاصل کرلی۔
برمنگھم کی خوش قسمتی یہ تھی کہ اٹھارویں صدی کے آخر میں یہاں بہت سے قابلِ دماغ اکٹھا ہو گئے۔ مثلاً جیمس واٹ (James Watt) اور میتھیو بولٹن (Matthew Boulton) اور ولیم مرداک
‹ Previous page Next page › Contents of September 2002 All issues