Al-Risala · September 2002 · page 17

Speech at London Conference

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۲، صفحہ ۱۷

(William Murdock)، وغیرہ۔ ان مفکرین نے ایک سوسائٹی بنائی جس کا نام لیونز سوسائٹی (Luner Society) تھا۔ یہ پورا گروہ ٹیکنیکل ترقیوں سے بہت زیادہ متاثر تھا۔ اس نے اُس زمانہ کے لوگوں میں جدید مشینی انقلاب کا شعور پیدا کیا۔

بولٹن کی سوہو مینو فیکٹری (Sohomanu factory) جس نے یورپ میں پہلی بار صنعتی ضروریات کے لیے اسٹیم انجن تیار کیا، وہ اسی برمنگھم سے تعلق رکھتی تھی۔ انیسویں صدی میں برمنگھم کو نہایت لائق انتظامیہ ملی جس نے شہر کو بہترین سڑکیں دیں اور دوسرے ترقیاتی وسائل فراہم کئے۔ دوسری عالمی جنگ میں برمنگھم بمباری سے تباہ ہوا مگر بہت جلد وہ دوبارہ زیادہ بہتر طور پر تعمیر کر لیا گیا۔ برمنگھم سے لندن تک ریلوے لائن ۱۸۳۸ میں مکمل ہوئی۔ اس کے ۶۳ سال بعد ۱۹۰۱ میں ہمارے ضلع اعظم گڑھ میں ریلوے لائن بچھائی گئی۔

ایک صاحب نے ملٹی نیشنل کمپنیوں کے خلاف بولتے ہوئے کہا کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کا مقصد ایکسپلاٹیشن ہے۔ یہ لوگ جہاں جاتے ہیں وہاں واٹر، لینڈ، فارسٹ ہر چیز پر قبضہ کرتے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ یکطرفہ بات ہے۔ آپ جیسے لوگ ان کمپنیوں کے مائنس پہلوؤں کا مبالغہ آمیز انداز میں ذکر کرتے ہیں اور پلس پہلوؤں کا بالکل ذکر نہیں کرتے۔ یہ فطرت کے قانون کے خلاف ہے کہ کوئی شخص یا ادارہ لوگوں سے صرف چھینے اور ان کو کچھ نہ دے۔ کوئی ڈاکو بھی ایسا نہیں کر سکتا۔ چنانچہ یہ کمپنیاں اگر خود منافع کماتی ہیں تو اس کا ایک حصہ وہ دوسروں کو بھی دیتی ہیں۔ یہ کمپنیاں ہزاروں، لاکھوں کو روزگار دیتی ہیں۔ وہ گورنمنٹ کو بڑے بڑے ٹیکس دیتی ہیں جو رفاہ عامہ کے کاموں میں خرچ ہوتا ہے۔ وہ تعلیم اور دوسرے مقاصد کے لئے ادارے کھولتی ہیں۔ وہ چیلنج کی صورت پیدا کر کے سارے سماج میں تعمیر و ترقی کا ماحول قائم کرتی ہیں۔ وہ ملک کے مدفون وسائل کو قابل استعمال بناتی ہیں، وغیرہ۔ خواہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کا معاملہ ہو یا کسی اور چیز کا معاملہ، کوئی آدمی صحیح رائے تک اُس وقت پہنچ سکتا ہے جب وہ نفرت اور محبت سے اوپر اٹھ کر رائے قائم کرے۔ لوگ عام طور پر اس معاملہ میں منصف نہیں ہوتے۔ وہ یا تو نفرت کے تحت رائے قائم کرتے ہیں یا محبت کے تحت، اس لیے

‹ Previous page Next page › Contents of September 2002 All issues

Printed page