Al-Risala · September 2002 · page 18

Speech at London Conference

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۲، صفحہ ۱۸

دونوں حالتوں میں اُن کی رائے غلط ہو جاتی ہے۔

ایک مجلس میں اکنامکس کے ایک افسر اکنامک گلوبلائزیشن کے عنوان پر جوش کے ساتھ بول رہے تھے۔ وہ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کی خرابیاں بتا رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کمپنیاں لبرلزم میں یقین رکھتی ہیں۔ وہ اپنے آپ کو کسی حکومت کے سامنے جوابدہ نہیں سمجھتیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ غلط ہے۔ اقتصادی سرگرمیوں پر حکومت کا کنٹرول ہونا ضروری ہے۔

یہی تمام انٹلچولس کا حال ہے۔ وہ ایک آئیڈیل اپنے سامنے رکھ کر بے تکان موجودہ سسٹم پر تنقید کرتے ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ اس دنیا میں انتخاب آئیڈیل اور غیر آئیڈیل کے درمیان نہیں ہے بلکہ چھوٹی برائی (lesser evil) اور بڑی برائی (greater evil) کے درمیان ہے۔ آئیڈیل قائم کرنے کی کوشش صرف برائی میں اضافہ کرتی ہے۔ سیکولر دنیا میں مارکسزم اور مسلم دنیا میں اسلام ازم اسی کی مثالیں ہیں۔

اصل یہ ہے کہ سوشلسٹ اکانومی اور کیپٹلسٹ اکانومی، دونوں ہی میں فائدے بھی ہیں اور نقصان بھی۔ مگر مطالعہ اور تجربہ بتاتا ہے کہ سوشلسٹ اکانومی زیادہ بڑی برائی ہے اور کیپٹلسٹ اکانومی اس کے مقابلہ میں چھوٹی برائی۔ اس مسئلہ کا حل مخلوط اکانومی نہیں ہے بلکہ یہ ہے کہ ہم بڑی برائی کے مقابلہ میں چھوٹی برائی کو ترجیح دیں۔

انگریزی روزنامہ دی ڈیلی ٹیلی گراف (The Daily Telegraph) کا شمارہ ۲۰ ستمبر ۲۰۰۱ء دیکھا۔ اُس کے صفحہ ۷ پر ایک رپورٹ چھپی تھی جس میں ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ کو نیویارک میں ہونے والے واقعہ پر لوگوں کا تاثر درج کیا گیا تھا۔ مسز ہیلپری کلنٹن (Hillary Clinton) کا تاثر اس بارے میں ان الفاظ میں نقل کیا گیا تھا:

“I think we have to do whatever it takes. And I believe Tuesday changed everything. We are in a war situation and we’re going to have to do things that people do in times of war."

یعنی ۱۱ ستمبر کے واقعہ نے سب کچھ بدل دیا ہے۔ ہم جنگ جیسی صورت حال سے دوچار ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2002 All issues

Printed page