Speech at London Conference
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۲، صفحہ ۱۹
ہم کو وہ کرنا ہے جس کو لوگ جنگ کے حالات میں کرتے ہیں۔ ایک اور رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکہ کے مسلمانوں کو امریکیوں کی طرف سے تعصبات (prejudices) کا سامنا ہے۔ وہ ایک طرح کے خوف (fear) میں جی رہے ہیں۔
لوگوں کی گفتگو سے اندازہ ہوا کہ 11 ستمبر سے پہلے امریکہ کے مسلمان پوری طرح امن اور بے خوفی کی حالت میں زندگی گزار رہے تھے۔ لیکن 11 ستمبر کے بعد وہ بے امنی اور خوف کی حالت میں مبتلا ہیں۔ ہر مسلمان پر شک کیا جانے لگا ہے۔ میں نے ایک صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے مسلمانوں کو وہاں امن اور آزادی کی جو نعمت ملی ہوئی تھی، اُس کا انہوں نے شکر ادا نہیں کیا۔ اسی ناشکری کا وہ انجام ہے جس کو اب امریکی مسلمان بھگت رہے ہیں۔
۲۲ ستمبر کی سہ پہر کو میں برمنگھم سے مانچسٹر گیا۔ رات کو وہاں رہ کر ۲۳ ستمبر کی صبح کو دوبارہ برمنگھم واپس آیا۔ مانچسٹر میں عرب نوجوانوں کا ایک اجتماع ہوا۔ اس میں بعض انگریز نو مسلم بھی شریک تھے۔ اس موقع پر میں نے ایک خطاب کیا۔ اس کے بعد سوال وجواب کا پروگرام ہوا۔ میری تقریر کا موضوع اجتہاد تھا۔ میں نے کہا کہ ہمارے فقہاء شریعت کے چار مصادر بتاتے ہیں ۔ قرآن ، سنت ، اجماع ، قیاس لیکن معاذ بن جبل کی روایت کو اگر بنیاد بنایا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ مصادر شریعت تین ہیں : قرآن ، سنت اور اجتہاد۔
اجتہاد کے سلسلہ میں میرے نزدیک ایک بہت بڑی بھول یہ شامل ہوگئی کہ لوگوں نے شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ سمجھ لیا کہ اجتہاد صرف فروع میں ہے، کلیات میں نہیں۔ چنانچہ عام طور پر اجتہاد کے ماخذ کو بتانے کے لئے بنو قریظہ والی روایت کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ (لا يصلين احدكم العصر الا فی بنی قریظہ) یہ واقعہ بلاشبہ اجتہاد کی ایک مثال ہے۔ مگر وہ فروع میں اجتہاد کی مثال ہے۔ خود پیغمبر کی زندگی میں کثرت سے اجتہاد کی مثالیں ہیں جو بتاتی ہیں کہ اصول اور کلیات میں بھی اجتہاد کا عمل جاری رہتا ہے۔
اجتہاد کیا ہے۔ اجتہاد یہ ہے کہ بدلے ہوئے حالات میں کسی حکم شرعی کا از سر نو انطباق
‹ Previous page Next page › Contents of September 2002 All issues