Speech at London Conference
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۲، صفحہ ۲۰
(re-application) معلوم کرنا۔ مثلاً حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل نے جس کعبہ کو قبلہ بنایا وہ بتوں سے خالی تھا۔ اسی طرح انہوں نے اور ان کے ابتدائی پیروؤں نے جس کعبہ کا طواف کیا وہ بتوں سے خالی تھا۔ مگر پیغمبر اسلام کو مکی دور میں جس کعبہ کو قبلہ بنانا تھا اس میں ۳۶۰ بت رکھے ہوئے تھے۔ اسی طرح آپ نے عمرۃ الحدیبیہ میں جب کعبہ کا طواف کیا، اس وقت بھی وہاں یہ سارے بت موجود تھے۔ آپ نے ایسا نہیں کیا کہ پہلے کعبہ کو بتوں سے پاک کریں اور اس کے بعد اس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھیں یا اس کے گرد طواف کریں۔ بلکہ کعبہ کو اس کی حالت پر برقرار رکھتے ہوئے آپ نے نماز بھی پڑھی اور طواف بھی کیا۔
مگر بعد کے مسلمانوں میں اجتہادی فکر کا آغاز پیغمبر اسلام کے کلی واقعات سے نہیں ہوا۔ بلکہ وہ مذکورہ قسم کے جزئی واقعہ سے ہوا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اجتہادی فکر کا عمل اپنے آغاز ہی سے فروعی مسائل میں جاری ہو گیا۔ اساسی مسائل میں یہ عمل سرے سے جاری ہی نہ ہوسکا۔ حتیٰ کہ وہ تمام ائمہ جن کو مجتہد مطلق کہا جاتا ہے، وہ سب کے سب مجتہد جزئیات تھے، نہ کہ مجتہد کلیات۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جزئی اور فروعی مسائل میں اتنی زیادہ بحثیں ہوئیں کہ فقہ اختلافی مسائل کا جنگل بن گئی۔ دوسری طرف اساسی امور میں سرے سے اجتہادی عمل کا دروازہ بند پڑا رہا۔ مثلاً انیسویں صدی میں جب استعماری طاقتیں غالب آگئیں تو ہمارے علماء صرف یہ سوچ سکے کہ ان کے خلاف مسلح جہاد کا اعلان کریں۔ حالانکہ اگر وہ حقیقی اجتہاد سے کام لیتے تو ان کا فتویٰ یہ ہوتا کہ مسلمان ان قوموں کے درمیان دعوتی جہاد جاری کریں۔ اسی طرح موجودہ زمانہ کے علماء نے تقریباً ہر مسلم ملک میں اسلامی کام اس کو سمجھا کہ وہ نفاذ شریعت کے نام پر مسلم حکمرانوں سے ٹکراؤ کی سیاست چلائیں حالانکہ اگر ان کے اندر اجتہادی بصیرت ہوتی تو وہ جان لیتے کہ موجودہ زمانہ میں سیاسی ادارہ کا تعلق قومی زندگی کے صرف ایک فیصد حصہ تک محدود ہو گیا ہے۔ بقیہ تمام امور کا تعلق آزاد اداروں (institutions) اور غیر سیاسی تنظیمات سے ہو گیا ہے۔ ایسی حالت میں انہیں چاہئے تھا کہ مسلمانوں کو یہ رہنمائی دیں کہ وہ غیر ضروری سیاسی نزاع سے اعراض کرتے ہوئے ہر شعبہ میں اسلامی ادارے اور اسلامی تنظیمات قائم
‹ Previous page Next page › Contents of September 2002 All issues