Speech at London Conference
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۲، صفحہ ۲۱
کریں۔ اس کے بعد وہ ہر ملک میں وہ سب کچھ حاصل کر سکتے ہیں جس کی امید وہ سیاسی گدی پر قبضہ سے کئے ہوئے ہیں۔
مانچسٹر برطانیہ کا ایک بڑا شہر ہے۔ صنعتی انقلاب کے ظہور کے زمانہ میں مانچسٹر کو غیر معمولی حیثیت حاصل ہو گئی تھی۔ اگر چہ اب مانچسٹر کو وہ حیثیت حاصل نہیں رہی۔ مغربی یورپ میں پچھلے ڈھائی سوسال کے درمیان جو صنعتی شہر وجود میں آئے اُن میں سے ایک ممتاز نام مانچسٹر کا ہے۔ ۱۷۷۱ء میں مانچسٹر صرف ایک قصبہ تھا جس کی آبادی دس ہزار سے زیادہ نہ تھی۔ مگر ۱۸۵۱ میں مانچسٹر ترقی کر کے ایک بڑا صنعتی شہر بن چکا تھا جس کے باشندوں کی تعداد تین لاکھ سے زیادہ تھی۔ بیسویں صدی کے آغاز میں مانچسٹر کپڑے کی صنعت کا بڑا مرکز بن چکا تھا۔ ۱۹۱۱ میں مانچسٹر کی آبادی ۲۳ لاکھ ہو چکی تھی۔ انیسویں صدی میں مانچسٹر برطانیہ کا دوسرا سب سے بڑا شہر سمجھا جاتا تھا مگر بیسویں صدی میں اُس کی یہ حیثیت باقی نہ رہی۔
رومیوں نے جب برطانیہ کو فتح کیا تو ۷۸-۷۹ء میں یہاں کا پہلا قلعہ بنایا گیا۔ تاہم یہاں رومن عہد کی تاریخی یادگاریں بہت کم ہیں۔ موجودہ مانچسٹر کی غالباً سب سے زیادہ نمایاں چیز وہاں کی مانچسٹر یونیورسٹی ہے۔ یہ یونیورسٹی ۱۸۵۱ میں قائم ہوئی۔ اس میں تقریباً پچیس ۲۵ ہزار طلبہ ہیں۔ ۱۹۷۰ کے بعد اس یونیورسٹی میں کافی اضافہ کیا گیا ہے۔
میرے بچپن کا واقعہ ہے۔ اُس زمانہ میں بدیشی مال کے بائیکاٹ کی دھوم تھی۔ اُس زمانہ میں مانچسٹر کے کپڑے کثرت سے ہندوستان میں استعمال ہو رہے تھے۔ چنانچہ ان بدیشی کپڑوں کو گھروں سے لے کر جلایا جانے لگا۔ میرے دور افتادہ گاؤں میں یہی ہوا کہ مقامی لیڈروں کی رہنمائی میں گھروں سے مانچسٹر کے بنے ہوئے کپڑے حاصل کئے گئے اور گاؤں کے باہر میدان میں لے جا کر انہیں جلایا گیا۔ ایک صاحب کپڑے کو جلا رہے تھے اور دوسرے لوگ اُس کے گرد کھڑے ہو کر تالیاں بجا رہے تھے۔ اس تحریک کا مقصد یہ تھا کہ لنکا شائر اور مانچسٹر کے کپڑے ہندوستان میں نہ آئیں اور خود ملک میں کپڑے بنائے جانے لگیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2002 All issues