Speech at London Conference
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۲، صفحہ ۲۲
یہ اس معاملہ میں ہندوستانی طریقہ تھا۔ دوسری طرف مانچسٹر کے طریقہ کو دیکھئے ۔ اٹھارویں صدی میں بنگال میں کھڈی پر کپڑے بنائے جاتے تھے۔ یہ کپڑے اتنے اچھے ہوتے تھے کہ وہ یہاں سے جاکر برطانیہ کی مارکیٹ میں فروخت ہوتے تھے۔ مانچسٹر والوں نے اس کا مقابلہ اس طرح کیا کہ انہوں نے اسٹیم پاور کو استعمال کر کے ہینڈلوم کی جگہ پاورلوم بنائے۔ پاورلوم کے کپڑے، ہینڈلوم کے مقابلہ میں کافی سستے ہوتے تھے۔ اسی کے ساتھ انہوں نے یہ کیا کہ وہ ہندوستان سے بڑی تعداد میں کپاس خرید کر لے جانے لگے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہندوستان سے کپڑے کی برآمد تقریباً ختم ہوگئی۔ اور مانچسٹر کے بنے ہوئے نسبتاً سستے کپڑوں نے ہندوستان کی مارکیٹ پر قبضہ کر لیا۔ مانچسٹر کے دوران قیام لوگوں سے مختلف موضوعات پر باتیں ہوئیں۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں جو سب سے بڑی کمی ہے وہ یہ کہ پوری نسل منفی سوچ (negative thinking) کا شکار ہو کر رہ گئی ہے۔ اس کی ذمہ داری تمام تر خود مسلم سماج پر ہے۔ میں نے اپنی زندگی سے مختلف مثال دیتے ہوئے کہا کہ سے 1947ء سے پہلے جس مسلم معاشرہ کے اندر میری پرورش ہوئی اس میں مجھے کوئی بھی مثبت پیغام نہیں ملا۔ گھر، مدرسہ، معاشرہ، لٹریچر اور تقریریں اور اسی طرح تمام ادارے، ہر موقع پر صرف منفی نفسیات کی غذا دے رہے تھے۔ مثلاً مجھے یاد ہے کہ میرے مدرسے کے صدر مدرس نے ایک بار اپنے درس میں کہا کہ انگریز ساری دنیا کا مکھن کھا گئے۔ چنانچہ برسوں تک میں اس کو لفظی طور پر درست مانتا رہا۔
اسی طرح ہندوستان کے ایک مشہور لیڈر نے ہندوستان کے ریلوے نظام کے بارے میں کہا کہ یہ ریلوے کا نظام نہیں ہے بلکہ یہ لوہے کی زنجیریں ہیں جن میں انگریز ہم کو جکڑ دینا چاہتا ہے۔ اس بات کو بھی میں نے بہت سے دوسرے نوجوانوں کی طرح اپنے ذہن کا حصہ بنالیا۔ اسی طرح اس زمانہ کے جن لوگوں کو سنتا اور پڑھتا تھا ان سے میرا یہ تاثر بنا کہ لندن اور برمنگھم اور مانچسٹر انگریزی استعمار کے مراکز ہیں جہاں سے ساری دنیا کو اپنے قبضہ میں لینے کی سازشیں کی جاتی ہیں۔ گویا جو چیزیں جدید ترقی کے مظاہر کی حیثیت رکھتی تھیں وہ میرے ذہن میں صرف سازش اور دشمنی کی علامات بن گئیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2002 All issues