Al-Risala · September 2002 · page 23

Speech at London Conference

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۲، صفحہ ۲۳

اس طرح کی مختلف مثالیں دیتے ہوئے میں نے کہا کہ میری زندگی کا سب سے عجیب واقعہ یہ ہے کہ میں ایک ایسے دور میں پیدا ہوا جب کہ ہر طرف منفی سوچ کا جنگل اگا ہوا تھا۔ اس کے باوجود اللہ کی توفیق سے میرے لئے یہ ممکن ہوا کہ میں اس جنگل سے باہر نکلوں اور مکمل طور پر مثبت سوچ کی بنیاد پر اپنے فکر کی تشکیل کروں۔ یہ انقلاب کیسے ہوا اس کا سبب اللہ کے سوا کسی اور کو معلوم نہیں۔ مانچسٹر کی ایک مجلس میں ایک سوال کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ فلسطین میں پچھلی نصف صدی سے جو صورتِ حال قائم ہے اور نیو یارک میں ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء کو جو صورتِ حال پیدا ہوئی وہ کوئی سادہ بات نہیں۔ دونوں کے درمیان گہرا ربط ہے۔ میرے نزدیک فلسطین میں عربوں کی ناکامی اس بات کی علامت ہے کہ خدا نے موجودہ مسلمانوں کو رد کر دیا ہے۔ اسی طرح ۱۱ ستمبر کو نیو یارک اور واشنگٹن میں جو واقعہ پیش آیا وہ اس بات کی علامت ہے کہ اہل مغرب بھی خدا کی نظر میں رد ہو چکے ہیں۔

موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی کوتاہی یہ ہے کہ اسلام ان کو ایک عالمی امانت کے طور پر دیا گیا تھا مگر اس کو انہوں نے اپنی قومی وراثت بنا لیا۔ اور اہل مغرب کی ناکامی یہ ہے کہ انہوں نے خدا کی فطری نعمتوں سے خوب فائدہ اُٹھایا مگر وہ منعم کا اعتراف کرنے میں ناکام رہے۔ ایک گفتگو یہاں قابلِ ذکر ہے۔ ایک تعلیم یافتہ غیر مسلم نے مجھے بتایا کہ ایک مسلمان عالم ایک بار اُن کے یہاں آئے۔ یہاں کمرہ کی دیوار پر ایک کیلنڈر لٹک رہا تھا جس پر ایک ہندو دیوی کی تصویر چھپی ہوئی تھی۔ مذکورہ شخص نے بتایا کہ نماز کا وقت آیا تو مولانا صاحب نے اپنی شیروانی اتار کر کیلنڈر کے اوپر لٹکا دی۔ اس کی وجہ سے اس کی تصویر شیروانی کے نیچے چھپ گئی۔ اس کے بعد مولانا صاحب نے میرے کمرہ میں نماز ادا فرمائی۔

اس واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے میں نے کہا کہ مولانا موصوف نے جو کچھ کیا وہ بجائے خود درست تھا مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایک طرف یہ نمونہ ہے اور دوسری طرف یہ مختلف مثال ہے کہ قدیم کعبہ میں ۳۶۰ بت رکھے ہوئے تھے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم وہاں روزانہ نماز ادا کرتے۔ مگر

‹ Previous page Next page › Contents of September 2002 All issues

Printed page