Al-Risala · September 2002 · page 24

Speech at London Conference

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۲، صفحہ ۲۴

آپ نے ایسا نہیں کیا کہ پہلے ان بتوں کے اوپر چادر کا پردہ ڈالیں اور پھر وہاں نماز ادا کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عمل سے ایک اہم دعوتی حکمت معلوم ہوتی ہے۔ دعوت کا کام کرنے کے لئے ایک بے حد ضروری شرط یہ ہے کہ داعی کے اندر نا خوشگوار باتوں کو نظر انداز کرنے کا مزاج موجود ہو۔ وہ ان چیزوں سے پاک ہو جو مدعو کی نظر میں کٹر پن، تنگ نظری اور عدم رواداری بن جاتی ہے۔ دعوتی کام کے لئے رواداری لازمی شرط ہے۔ داعی کے اندر اگر رواداری کا مزاج نہ ہو تو وہ کامیاب داعی نہیں ہو سکتا۔

مانچسٹر کے مختصر قیام کے بعد میں دوبارہ برمنگھم واپس آ گیا۔ ۲۴ ستمبر ۲۰۰۱ کی صبح کو برمنگھم میں جناب شمشاد محمد خاں صاحب کے صاحبزادے مسٹر اسد علی خاں (۲۰ سال) سے گفتگو ہوئی۔ وہ یہاں کی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ تعلیم کی تکمیل کے بعد آپ کس فیلڈ میں جانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ابھی اس کے بارے میں کچھ طے نہیں کیا۔ میں نے کہا کہ یہ تو خود آپ کے حالات نے طے کر دیا ہے۔ ان کے والد صاحب نے ۱۹۸۳ میں برمنگھم میں اسلامک پروپیگیشن سنٹر کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا۔ اس وقت یہ ادارہ ابتدائی حالت میں تھا۔ اب ان کی مسلسل کوشش کے نتیجہ میں وہ اسلامک پروپیگیشن سنٹر انٹرنیشنل (IPCI) کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ وہ دعوت کے میدان میں قابل قدر کام انجام دے رہا ہے۔ میں نے مسٹر اسد سے کہا کہ آپ اگر کوئی نیا کام شروع کریں تو آپ کو دوبارہ زیرو سے شروع کرنا پڑے گا۔ لیکن اگر آپ شمشاد محمد خاں صاحب کے کام میں اپنے آپ کو لگائیں تو آغاز ہی میں آپ کو ایک بنی ہوئی ترقی یافتہ بنیاد مل جائے گی اور پھر آپ اس کام کو مزید آگے بڑھانے میں کامیاب ہو سکیں گے۔ پھر میں نے کہا کہ ہر آدمی کی عمر محدود ہوتی ہے اس لئے کوئی بڑا کام اس وقت انجام پاتا ہے جب کہ نسل در نسل لوگ اس کو آگے بڑھاتے رہیں۔ مثلاً انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا یا آکسفورڈ ڈکشنری وغیرہ کو اسی تدریجی عمل کی بنیاد پر موجودہ ترقی کا درجہ ملا ہے۔ اسی حقیقت کو جارج برناڈ شا نے اپنے مخصوص انداز میں اس طرح کہا کہ میرا قد اگرچہ شکسپیر سے چھوٹا ہے مگر میں شکسپیر کے کندھے پر کھڑا ہوں :

‹ Previous page Next page › Contents of September 2002 All issues

Printed page