Speech at London Conference
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۲، صفحہ ۲۵
برمنگھم میں سلطان باہو ٹرسٹ کے نام سے ایک بڑا ادارہ قائم ہے۔ اس ادارہ کے تحت ایک شاندار مسجد بنائی گئی ہے۔ ۲۳ ستمبر ۲۰۰۱ کی شام کو مغرب کی نماز اس مسجد میں پڑھی۔ نماز کے بعد یہاں مقامی مسلمانوں کے ایک اجتماع میں خطاب کیا۔ اس خطاب کا خلاصہ یہ تھا کہ اسلام کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے ہم کو ایک ایسی نعمت دی ہے جو ہر حال میں ہمارا حوصلہ بلند رکھے، کبھی بھی ہم کو بے حوصلگی کا شکار نہ ہونے دے۔ میرے خطاب سے پہلے ایک مسلم نوجوان نے ”زیارت مدینہ“ کے عنوان پر ایک نعت پڑھی۔ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ اس وقت آپ نے ایک بینا شاعر کی زبان سے مدینہ کے بارے میں ایک نظم سنی۔ پھر میں نے کہا کہ ایک بار میں علیگڑھ کے ایک جلسہ میں شریک تھا۔ وہاں ایک نابینا شاعر آئے ہوئے تھے۔ انہوں نے مدینہ پر اپنی نعتیہ نظم سناتے ہوئے یہ شعر پڑھا:
بصارت کھو گئی تو کیا بصیرت تو سلامت ہے مدینہ ہم نے دیکھا ہے مگر نادیدہ نادیدہ اسی طرح میں نے حضرت ابو بکر صدیق کا واقعہ سناتے ہوئے کہا کہ ہجرت کے بعد غار ثور میں جب مسلح دشمن غار کے منھ تک پہنچ گئے اور حضرت ابو بکر نے اندیشہ کا اظہار کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یا ابابکر، ماظنک باثنين الله ثالثهما ۔ یہ واقعہ اس بات کا سبق ہے کہ مومن اگر ایک ہو تو اس کے ساتھ اس کا دوسرا خدا ہے، اگر وہ دو ہو تو اس کے ساتھ اس کا تیسرا خدا ہے۔ اس طرح کی مختلف مثالیں دیتے ہوئے میں نے بتایا کہ حالات خواہ کچھ بھی ہوں صاحب ایمان کے لئے بے ہمت ہونے کا کوئی سوال نہیں۔
پھر میں نے کہا کہ ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ کو نیویارک اور واشنگٹن میں جو بھیانک واقعہ ہوا اس کے نتیجہ میں ساری دنیا کا میڈیا اسلام کو ٹررزم (terrorism) کے روپ میں دیکھنے لگا۔ مگر اس عصر میں بھی یسر کا ایک پہلو نکل آیا۔ رپورٹیں بتاتی ہیں کہ اس کے بعد لوگوں کے اندر اسلام کے بارے میں تجسس (curiosity) کا ذہن پیدا ہوا۔ چنانچہ پوری دنیا میں بڑے پیمانہ پر اسلام کا مطالعہ کیا جانے
‹ Previous page Next page › Contents of September 2002 All issues