Al-Risala · September 2002 · page 26

Speech at London Conference

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۲، صفحہ ۲۶

لگا۔ خود امریکی صدر بش نے واشنگٹن کے اسلامی سنٹر کی زیارت کی۔ کہا جاتا ہے کہ برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے اس دوران دو بار قرآن کا مطالعہ کیا ہے۔ جرمنی سے آئے ہوئے مسٹر فاروق نے بتایا کہ جرمن میں ۱۱ ستمبر کے بعد قرآن کے جرمن ترجمہ کی مانگ اتنی زیادہ بڑھی ہے کہ مارکیٹ سے جرمن ترجمہ کی کاپیاں ایک ہفتہ کے اندر ختم ہوگئیں ۔ یہی معاملہ اکثر مقامات پر پیش آیا۔ اس طرح کی مختلف مثالیں دیتے ہوئے میں نے کہا کہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ فلا تخشوہم واخشونی (المائدہ ۳) اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کے ظہور کے بعد اب دنیا میں خشیت انسانی کا دور ختم ہو گیا، اب دنیا خشیت ربانی کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ اب ہمیں صرف یہ کرنا ہے کہ اللہ کے ساتھ اپنے معاملہ کو درست رکھیں ۔ جہاں تک انسان کے ساتھ معاملہ کا تعلق ہے، اس کو اللہ نے خود نظام فطرت کے تحت پیشگی طور پر ہمارے موافق بنا دیا ہے۔ ۲۴ ستمبر کو ۱۲ بجے سے دو بجے تک آئی پی سی آئی (برمنگھم) کے دفتر میں ایک مختصر اجتماع ہوا۔ اس میں شہر کے کچھ تعلیم یافتہ مسلمان شریک ہوئے ۔ مختلف دینی اور علمی موضوعات پر گفتگو ہوئی ۔ ان میں سے ایک مولانا شیر خاں جمیل احمد العمری تھے۔ وہ برمنگھم کی جامع مسجد کے امام ہیں۔ اس کے علاوہ وہ بعض دینی اداروں کے ذمہ دار ہیں۔ وہ عرصہ سے ماہنامہ الرسالہ پڑھتے رہے ہیں ۔ ان کے ہاتھ میں راقم الحروف کی کتاب مطالعہ سیرت تھی۔ انہوں نے بتایا کہ مجھے اس کتاب کے مضامین سے پورا اتفاق ہے۔ البتہ انہوں نے کہا کہ اس کتاب میں رسول اللہ کے زمانہ کے تمام غزوات کو دفاعی قرار دیا گیا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ تو خود قرآن سے ثابت ہے۔ قرآن کے مطابق، جنگ کی ابتداء خود مشرکین کی طرف سے ہوئی ــــ وهم بدؤاكم اول مرة (التوبۃ (۱۳) اسی طرح فرمایا کہ جنگ کی اجازت ان لوگوں کو دی گئی جن سے قتال کیا جا رہا ہے: أذن للذين يقاتلون بأنهم ظلموا (الحج ۳۹) انہوں نے اتفاق کیا اور کہا کہ میرا شبہ رفع ہو گیا۔

ایک صاحب نے کسی مغربی خاتون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ٹی وی پر بولتے ہوئے امریکہ کے صدر سے کہا ہے کہ اگر تم کو افغانستان پر بم گرانا ہے تو اس کے اوپر کھانے کے پیکٹ

‹ Previous page Next page › Contents of September 2002 All issues

Printed page