Al-Risala · September 2002 · page 27

Speech at London Conference

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۲، صفحہ ۲۷

کے بم گراؤ۔ میں نے کہا کہ یہ محض ایک شاعری ہے۔ اس طرح سے کبھی کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ اس مسئلے کا حل صرف وہی ہے جو لیبیا کے معمر القذافی نے بعد از خرابی بسیار کیا۔ انہوں نے لاکر بی بم کیس کے ماخوذین کو برطانیہ کے حوالہ کر دیا۔ اسی طرح افغانستانی حکومت کو چاہئے کہ وہ کچھ انڈر اسٹینڈنگ کے ساتھ اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالہ کر دے۔ اس مسئلہ کا یہی واحد پر امن حل ہے۔ یہ گفتگو ۲۴ ستمبر ۲۰۰۱ء کو ہوئی۔

۲۴ ستمبر ۲۰۰۱ کی شام کو اسلامک پروپیگیشن سنٹر انٹرنیشنل کے ہال میں ایک اجتماع ہوا۔ مغرب کی نماز یہاں باجماعت پڑھی گئی۔ تلاوت قرآن کے بعد میرا خطاب شروع ہوا۔ اس کا موضوع تھا اسلام اور امن (Islam and Peace) ۔ ایک گھنٹہ کی یہ تقریر ویڈیو کیسٹ پر ریکارڈ کی گئی۔ میں نے اپنی تقریر میں بتایا کہ اسلام میں امن کی بے حد اہمیت ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ قرآن کی تمام تعلیمات براہ راست یا بالواسطہ طور پر امن سے تعلق رکھتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام کا کوئی بھی تقاضہ پرامن صورت حال کے بغیر انجام نہیں دیا جا سکتا۔

پھر میں نے بتایا کہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ: والصلح خير (النساء (۱۲۸) اس کا مطلب یہ ہے کہ صلح کی پالیسی سے امن قائم ہوتا ہے۔ ٹکراؤ کے ماحول میں کوئی تعمیری کام نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے مقابلہ میں امن کے ماحول میں ہر کام کو کرنا ممکن ہو جاتا ہے۔ برمنگھم میں کئی چھوٹی بڑی مسجدیں ہیں۔ ایک سڑک سے گزرتے ہوئے ایک بڑی مسجد نظر آئی۔ اُس کے اوپر جلی حرفوں میں لکھا ہوا تھا قرآن پڑھئے، جو کہ آخری عہد نامہ ہے: Read Al-Qur'an, the Last Testament. مسجد کی بیرونی سمت میں لگا ہوا یہ بورڈ علامتی طور پر بتا رہا تھا کہ مغربی دنیا میں اسلام کی تبلیغ کے کھلے مواقع موجود ہیں۔ ان مواقع کو استعمال کرنے کی شرط صرف ایک ہے۔ اور وہ یہ کہ مسلمان اپنی کسی روش سے داعی اور مدعو کے درمیان نفرت کی فضا قائم نہ کریں۔ معتدل فضا میں اسلام کی اشاعت ہوتی ہے، اور نفرت اور تناؤ کی فضا میں اسلام کی اشاعت کا عمل رُک جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2002 All issues

Printed page