If you have a good excuse, don't use it.
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۲، صفحہ ۲۸
خود کش بمباری بلاشبہ اسلام میں حرام ہے۔ مفروضہ استشہاد کے حق میں کوئی بھی شرعی دلیل موجود نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں شہید ہونا ہے، شہید کروانا نہیں ہے۔ یہ بلاشبہ ایک افضل موت ہے کہ کوئی شخص اللہ کے راستہ میں مارا جائے۔ مگر اسلام کا نام لے کر اپنے آپ کو مارنا یا مروانا ایک ایسا فعل ہے جس کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔
اس معاملہ کی مزید وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ بصارت نہ ہو تو آدمی کو کچھ دکھائی نہیں دیتا، اسی طرح اگر بصیرت نہ ہو تو وہ سچائی کو نہ دیکھ سکے گا۔
العارف احمد مانچسٹر میں رہتے ہیں۔ انہوں نے مانچسٹر یونیورسٹی میں ریسرچ کے لیے اپنا رجسٹریشن کرایا ہے۔ مانچسٹر میں گفتگو کے دوران انہوں نے بتایا تھا کہ دو سال گزرنے کے بعد بھی اب تک ریسرچ کا کام آگے نہ بڑھ سکا۔ پوچھنے پر انہوں نے بتایا تھا کہ اُن کی اہلیہ جو ایک عرب خاتون ہیں، وہ انگریزی بالکل نہیں جانتیں ۔ یہاں کے معاشرہ میں وہ اب تک اجنبی بنی ہوئی ہیں۔ چنانچہ مارکیٹ، وغیرہ کا سارا کام ان ہی کو کرنا پڑتا ہے۔ ان گھریلو مصروفیتوں کی بنا پر وہ ریسرچ کے کام کے لیے زیادہ وقت نہیں دے پاتے۔
العارف احمد کی یہ بات میرے دماغ میں ایک بوجھ بنی ہوئی تھی۔ کسی نوجوان کے لیے سب سے زیادہ اہم کام میرے نزدیک تعلیم ہے۔ تعلیم کا کام ہر دوسرے کام پر مقدم ہے۔ مانچسٹر سے واپسی کے بعد جب کہ میں برنگھم میں تھا، العارف احمد سے میں نے ٹیلی فون پر تفصیلی گفتگو کی۔ میں نے اصرار کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کے معاملہ میں آپ کو اس اصول پر عمل کرنا چاہئے کہ:
If you have a good excuse, don't use it.
‹ Previous page Next page › Contents of September 2002 All issues