Al-Risala · September 2002 · page 29

If you have a good excuse, don't use it.

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۲، صفحہ ۲۹

میں نے اُن سے کہا کہ آپ تعلیم کے معاملہ میں کسی بھی مسئلہ کو رکاوٹ نہ بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ پھر میرے گھریلو مسئلہ کا حل کیا ہے۔ میں نے کہا کہ میرے پاس اس کا کوئی بنایا فارمولا نہیں۔ مگر میں یہ جانتا ہوں کہ مسئلہ کو اگر اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے تب بھی فطری اسباب کے تحت اُس کا کوئی نہ کوئی حل نکل آتا ہے۔ میں نے کہا کہ :

Not to solve the problem is also a way of solving the problem. ۲۶ ستمبر ۲۰۰۱ء کو برمنگھم سے واپسی ہوئی۔ برمنگھم سے لندن ایر پورٹ تک کا فاصلہ روڈ کے ذریعہ طے ہوا۔ یہاں کی سڑکوں پر سفر کرنے کا تجربہ اس سے بالکل مختلف ہے جو دہلی یا ہندوستان کے کسی اور بڑے شہر میں ہوتا ہے۔ ہمارے شہروں میں لوگ بہت کم ٹریفک رول کی پابندی کرتے ہیں۔ مگر یہاں یا کسی اور مغربی ملک میں ایسا نہیں۔ یہاں کی سڑکوں پر گاڑی چلانے والے عام طور پر ٹریفک کے قواعد کی سخت پابندی کرتے ہیں۔ ہارن کی آواز تو کبھی سنائی ہی نہیں دیتی۔

یہاں کے شہروں میں اور ہندوستانی شہروں میں کیوں یہ فرق پایا جاتا ہے۔ اس کی وجہ عام طور پر یہ بتائی جاتی ہے کہ مغربی شہروں میں بہت زیادہ تربیت کے بعد گاڑی چلانے کا لائسنس دیا جاتا ہے جب کہ ہندوستان میں گاڑی چلانے کا لائسنس خرید و فروخت کی ایک چیز بن گیا ہے۔ مگر میرے نزدیک زیادہ بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہندوستان میں گاڑی چلانے والے کو سزا کا کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔ وہ ٹریفک کے اصول کی خلاف ورزی کر کے بھی نہایت آسانی کے ساتھ سزا سے بچ سکتا ہے، بشرطیکہ اُس کی جیب میں اس کی قیمت ادا کرنے کے لیے پیسے موجود ہوں، جب کہ مغربی ملکوں میں یہ حال ہے کہ ٹریفک کے اصول کی خلاف ورزی کرنے کے بعد کسی شخص کے لیے سزا سے بچنا ممکن نہیں۔

۲۶ ستمبر ۲۰۰۱ء کو واپسی کا سفر تھا۔ شام کو لندن ایر پورٹ پہنچا۔ دہلی اور لندن کے درمیان ایک عجیب فرق یہ نظر آیا کہ آتے ہوئے دہلی ایر پورٹ پر پولیس اور سیکورٹی کا جو ہنگامہ دکھائی دیا تھا وہ لندن ایر پورٹ پر بالکل نہ تھا۔ یہاں بالکل معمول کی فضا تھی ۔ ۱۱ ستمبر کے واقعہ سے پہلے لندن ایر پورٹ کا جو حال تھا وہی حال ۱۱ ستمبر کے بعد بھی دکھائی دیا۔ مگر دہلی ایر پورٹ

‹ Previous page Next page › Contents of September 2002 All issues

Printed page