Al-Risala · September 2002 · page 30

If you have a good excuse, don't use it.

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۲، صفحہ ۳۰

میں غیرضروری طور پر صورت حال بالکل مختلف تھی۔

لندن سے دہلی کے لیے برٹش ایرویز کے ذریعہ واپسی ہوئی۔ جہاز ٹھیک اپنے وقت پر روانہ ہوا۔ راستہ میں مختلف اخبار اور میگزین دیکھے۔ ایک دلچسپ رپورٹ اسامہ بن لادن کے بارے میں تھی۔ دورانِ سفر لندن کے انگریزی روزنامہ دی ٹائمس (The Times) کا شمارہ ۲۵ ستمبر ۲۰۰۱ء دیکھا۔ اُس کے پہلے صفحہ پر ایک عجیب و غریب تصویر تھی۔ یہ اُسامہ بن لادن کا عربی میں دستخط تھا۔ اس میں دلچسپ بات یہ تھی کہ اُس کے کیپشن میں یہ لکھا ہوا تھا کہ یہ اسامہ بن لادن کا دستخط ہے جو انہوں نے ایک بیان پر کیا۔ ہینڈ رائٹنگ کے ایک ایکسپرٹ کے مطابق، دستخط کا یہ انداز بتاتا ہے کہ دستخط کرنے والا بہت زیادہ غیر مطمئن ہے اور اپنے تحفظ کی شدید ضرورت محسوس کرتا ہے۔ اُسامہ کے دستخط کی یہ تصویر یہاں نقل کی جارہی ہے۔

اخوكم في الإسلام أسامة بن محمد بن لادن The signature of Osama bin Laden on yesterday's statement: it shows someone who is chronically unhappy and in great need of self-protection, according to a handwriting expert. اسامہ بن لادن کے دستخط کا انداز بتاتا ہے کہ وہ ایک ایسا انسان ہے جو شدید طور پر رنجیدہ ہے اور اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کرتا ہے۔ یہ بات بے حد اہم ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ

‹ Previous page Next page › Contents of September 2002 All issues

Printed page