If you have a good excuse, don't use it.
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۲، صفحہ ۳۱
زمانہ میں اسامہ بن لادن کو دنیا بھر کے مسلمانوں کے درمیان غیر معمولی مقبولیت کیوں حاصل ہوئی۔ اس کا سبب یہ تھا کہ خود دنیا بھر کے مسلمان بھی اسی نفسیات میں جی رہے تھے۔ مسلمان دوسری قوموں کے خلاف اپنے دل میں سخت شکایت رکھتے تھے۔ وہ دوسری قوموں کو ظالم فرض کر کے اپنے آپ کو مظلوم سمجھے ہوئے تھے۔ اس طرح وہ گویا ایک محصور ذہنیت (besieged mentality) میں مبتلا تھے۔ اسامہ بن لادن نے وہی منفی بولی بولنا شروع کیا جو موجودہ مسلمانوں کی نفسیات کے عین مطابق تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اسامہ بن لادن کو ساری دنیا کے مسلمانوں میں زبردست مقبولیت حاصل ہوئی۔ یہ بات بجائے خود درست ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو دوسری قوموں سے کچھ شکایات پیدا ہوئیں۔ مگر ایسی حالت میں اصل کام یہ تھا کہ ان شکایتوں کو پہلے ہی مرحلہ میں مثبت کوششوں کے ذریعہ ان کے ذہن سے نکالا جائے۔ کیوں کہ کوئی بھی قوم صرف مثبت ذہن کے تحت دنیا میں قائم ہو سکتی ہے نہ کہ منفی ذہن کے تحت۔ اسامہ بن لادن سمیت موجودہ زمانہ کے تمام مسلم لیڈروں نے یہی غیر مطلوب کام کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دوسری قوموں کے خلاف شکایات مسلمانوں کے تحت شعور (sub-conscious mind) میں داخل ہو گئیں۔ اور جب کوئی خیال انسان کے تحت شعور میں داخل ہو جائے تو وہ ایک ایسا نفسیاتی مریض بن جاتا ہے جس کی اصلاح سرے سے ممکن ہی نہ ہو۔ برطانیہ کے سفر کے بعد ۲ ستمبر کی صبح کو میں دہلی واپس پہنچا۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2002 All issues