Al-Risala · September 2002 · page 32

سوال وجواب

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۲، صفحہ ۳۲

سوال وجواب

محترمہ بینکرافٹ (Sarah Bincroft) لندن کے انگریزی اخبار انڈیپنڈنٹ (Independent) کی اسوسی ایٹ ایڈیٹر ہیں۔ اپریل ۲۰۰۲ء کے آخری ہفتہ میں وہ نئی دہلی میں تھیں ۔ ایک ملاقات کے دوران انہوں نے اپنے کچھ سوالات لکھ کر دیئے۔ یہ سوالات مسٹر محمد خالد انصاری (ہندوستان ٹائمس) نے ہمارے پاس روانہ کئے ہیں۔ یہ سوالات انہی کے الفاظ میں صفحہ کے نیچے درج کیے جا رہے ہیں۔ اُن کے سوالات کا جواب جو انہیں بذریعہ ای میل بھیجا گیا ، اُس کو یہاں نمبر وار نقل کیا جاتا ہے۔

موجودہ دنیا میں انسان کے وجود کا مقصد کیا ہے، اس سوال کو سمجھنے کے لیے ہمیں یہ جاننا چاہیے کہ خدا کا تخلیقی نقشہ (creation plan) کیا ہے۔ قرآن کے مطابق ، خدا نے ایک آئیڈیل دنیا بنائی جس کو جنت (پیراڈائس) کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ابدی اور مکمل دنیا ہے جہاں انسان وہ سب کچھ پالے گا جو وہ چاہتا ہے۔ موجودہ مختصر دنیا وہ مقام انتخاب ہے جہاں اُن افراد کو چنا جا رہا ہے جو موت کے بعد آنے والی ابدی دنیا میں بسائے جانے کے قابل ہوں۔

مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان ایک ایسی مخلوق ہے جو استثنائی طور پر لامحدود استعداد

‹ Previous page Next page › Contents of September 2002 All issues

Printed page