سوال وجواب
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۲، صفحہ ۳۸
دفاع کا سوال ہے تو اُس کا حق بلاشبہ افراد کو حاصل ہے۔ تاہم یہ دفاع بھی مسئلہ کو حل کرنے کے لیے ہونا چاہئے، نہ کہ مسئلہ میں مزید اضافہ کے لئے۔
اس سلسلہ میں دوسری قابل لحاظ بات یہ ہے کہ کچھ لوگ اگر کسی گاؤں پر حملہ کریں تو اس معاملہ میں انتہائی حقیقت پسندانہ انداز میں سوچ کر یہ جاننا چاہئے کہ یہ حملہ یک طرفہ طور پر بلا سبب ہوا ہے یا وہ کسی پیشگی کارروائی کے انتقام کے لیے ہوا ہے۔ اگر وہ انتقام کا معاملہ ہے تو اُس کا حقیقی حل یہ ہے کہ انتقام کے سبب کو دور کیا جائے۔ ورنہ عملاً یہ ہوگا کہ ایک انتقام کے بعد دوسرا انتقام اور دوسرے انتقام کے بعد تیسرا انتقام لیا جاتا رہے گا، اور اصل مسئلہ صرف بڑھتا رہے گا، وہ کبھی ختم نہ ہوگا۔ سوال کہا جاتا ہے کہ جو مسلمان اللہ کے راستہ میں لڑتا ہوا مارا جائے وہ شہید ہوگا اور اُس کو جنت میں جگہ ملے گی۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا وہ مسلم ماں بھی جنت میں جائے گی جس نے ایسے شہید کو جنم دیا۔ (ترنم ریاض، نئی دہلی)
جواب
آخرت کا انعام کسی کو نسلی تعلق کی بنا پر نہیں ملتا۔ وہ ذاتی عمل کی بنیاد پر ملتا ہے۔ اگر کسی ماں نے اپنے بیٹے کی دینی تربیت کے لیے محنت کی اور اُس کی محنت سے اُس کا بیٹا سچا دیندار بنا تو اس قسم کے عمل کا ثواب ضرور ماں کو پہنچے گا۔ مگر محض نسلی تعلق کی بنا پر کسی مرد یا عورت کو کوئی ثواب ملنے والا نہیں۔ شہادت کے سلسلہ میں عرض ہے کہ مسلمان کسی کو شہید کے لفظ سے پکاریں تو ایسا کرنے سے کوئی شخص شہید نہیں بن جائے گا۔ شہادت کا تعلق تمام تر نیت سے ہے۔ اور نیت کا حال صرف اللہ کو معلوم ہے۔ صرف اللہ یہ جانتا ہے کہ کون حقیقی معنوں میں شہید کا درجہ پانے کا مستحق ہے۔ اسی لیے امام البخاری نے اپنی صحیح میں کتاب الجہاد کے ایک باب کا عنوان (ترجمہ باب) ان الفاظ میں قائم کیا ہے : باب لا يقال فلان شهید (یہ نہ کہو کہ فلاں شہید ہے)۔ فتح الباری جلد ۶ صفحہ ۱۰۵۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2002 All issues