Al-Risala · September 2002 · page 39

سوال وجواب

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۲، صفحہ ۳۹

سوال

جب ہم لوگ قرآن کا متن پڑھتے ہیں تو اُس کی بہت ساری سورتیں شعر جیسی لگتی ہیں۔ جیسے سورہ الرحمن اور پارہ عم۔ آپ سے گزارش ہے کہ اس سلسلہ میں ہم اور ہمارے جیسے لوگوں کی دماغی صفائی کے لئے الرسالة کے صفحات پر تشفی بخش جواب لکھ کر ہم حامیان الرسالة کو مطمئن کریں۔ (محمد نسیم احمد، مشرقی چمپارن، بہار)

جواب

شعر کا جو معروف اسلوب ہے، اُس کے مطابق ، قرآن شعر کی زبان میں نہیں ہے۔ یہ صحیح ہے کہ قرآن کی آیتوں میں ایک صوتی آہنگ ہے۔ چنانچہ ایک مستشرق نے لکھا ہے کہ: Sound art in the Qur’an is par excellance. مگر یہ صوتی آہنگ ادب کی زبان میں موزونیت (rhythm) ہے، نہ کہ شعر۔ سوال اسلام کے فکری غلبہ کے بارے میں آپ کی بات سے مجھے پورا اتفاق ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ تعارف اسلام کے سلسلہ میں سائنٹفک انداز تحریر جو آپ کی تحریروں میں ملتا ہے اُسے حاصل کرنے کی کیا صورت ہوگی۔ امید ہے کہ ان چیزوں کی تفصیل سے آپ مجھے مطلع فرمائیں گے۔ (محمد نعمت اللہ، حیدر آباد)

جواب

اس سلسلہ میں قرآن سے دورہنما اصول ملتے ہیں۔ ایک یہ کہ داعی کا کلام اپنی زبان کے اعتبار سے عصری اُسلوب میں ہو۔ یہ اصول قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے: وما أرسلنا من رسول إلا بلسان قومہ (ابراہیم (۴) اس ضمن میں دوسرا اُصول جو قرآن سے معلوم ہوتا ہے وہ یہ کہ داعی کا کلام مخاطب کے اپنے معیار کے مطابق، اتنا مدلل ہو کہ وہ اُس کو سُن کر اپنے آپ کو دفاعی پوزیشن میں محسوس کرنے لگے۔ یہ دوسرا اُصول قرآن کی اس آیت پر غور کرنے سے معلوم

‹ Previous page Next page › Contents of September 2002 All issues

Printed page