Al-Risala · September 2002 · page 40

سوال وجواب

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۲، صفحہ ۴۰

ہوتا ہے: فبہت الذی کفر (البقرہ ۲۵۸)

میرے تجربہ کے مطابق، اس قسم کے داعیانہ کلام کے لیے داعی میں حسب ذیل صفات کا ہونا ضروری ہے___ اسلامی علوم کے ساتھ مدعو کے علوم کا گہرا مطالعہ، ذہنی جمود سے خالی ہونا، متعصبانہ ذہن سے مکمل طور پر پاک ہونا، قومی فکر کے بجائے علمی فکر کا مالک ہونا، انسانیت عامہ کے ساتھ شفقت اور خیر خواہی کا تعلق ہونا، مصلحت بینی کے بجائے اعتراف کا مزاج ہونا، ہر دوسری طلب سے کٹ کر حق کا طالب بن جانا، وغیرہ۔

سوال

ونسینٹ پیل (Norman Vincent Peale) اپنی کتاب ”The Power of ”Positive Thinking میں لکھتے ہیں کہ آپ خدا کی طاقت سے ہر کام کر سکتے ہیں۔ ایک دوسری جگہ پر وہ لکھتے ہیں کہ ”God is in you“ یعنی خدا آپ کے اندر ہے (صفحہ ۴۴) کیا اسلامی عقیدہ کے مطابق، ایک مومن ایسا کہہ سکتا ہے کہ ”خدا انسان کے اندر ہے“ براہ کرم اسلام کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔ (خورشید احمد، شوپیان)

جواب

خدا کا یہ فلسفیانہ تصور وحدتِ حقیقت (Monism) کے اصول پر قائم ہے۔ اس نظریہ کے مطابق، دنیا کی ہر چیز خدا کے تووسیعی وجود کا ایک حصہ ہے۔ چنانچہ انسان بھی خدا کا ایک حصہ ہے۔ مذکورہ بیان کے پیچھے دراصل یہی فکر کام کر رہا ہے۔ جہاں تک اسلام کا تعلق ہے، اسلام کے نزدیک خدا اور انسان دونوں ایک دوسرے سے بالکل الگ ہیں۔ انسان صرف یہ کرسکتا ہے کہ وہ خدا سے دعا کرے۔ اگر وہ اپنی دعا میں سچا اور مخلص ہے تو خدا ضرور اُس کی دعا کو قبول کرے گا۔ مگر یہ فیصلہ کرنا خود خدا کا کام ہے کہ وہ بندہ کی دعا کو دنیا میں پورا کرے یا آخرت میں اس کا اجر عطا فرمائے۔ سوال الرساله دسمبر ۲۰۰۱ کے صفحہ ۲۷ پر آپ تحریر کرتے ہیں کہ موجودہ دنیا کو خدا نے

‹ Previous page Next page › Contents of September 2002 All issues

Printed page