Al-Risala · January 2002 · page 43

What is Colour Blindness?

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۲، صفحہ ۴۳

لگا۔ اب ہوائی جہاز کی ایجاد نے اس سفر کی مدت بہت گھٹا دی ہے۔ تاہم یہ آخری حد نہیں ۔ خدا کی اس دنیا میں ایسا سفر بھی ممکن ہے جس میں آغاز و اختتام کا فرق سرے سے ختم ہو جائے ۔ موت اور قیامت کے درمیان فاصلہ کے سوال کو اسی مثال کے ذریعہ سمجھا جا سکتا ہے۔ ہم لوگ دہلی پہنچے تو رات کے گیارہ بج چکے تھے۔

۳۱ مئی ۲۰۰۱ کو جب کہ میں بنگلہ دیش گیا تب بھی نظام الدین میں ہمارے ٹیلی فون ناکارہ (dead) ہورہے تھے۔ ۲ جون ۲۰۰۱ کو جب میں بنگلہ دیش سے واپس ہو کر دوبارہ نظام الدین پہنچا تب بھی یہاں کے ٹیلی فون ناکارہ پڑے ہوئے تھے۔ میں نے معلوم کیا تو مجھے بتایا گیا کہ بارش کی وجہ سے یہاں کے ٹیلی فون خراب ہو گئے ہیں۔ مگر جب میں بنگلہ دیش میں تھا تو وہاں دہلی سے زیادہ بارشیں ہو رہی تھیں مگر وہاں کے ٹیلی فون اچھی طرح کام کر رہے تھے۔ ہم نے ڈھا کہ میں بہت سے لوگوں سے ٹیلی فون سے باتیں کیں اور دوسروں کے ٹیلی فون ہمارے پاس آئے مگر کبھی کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔

اس فرق کا سبب صرف ایک ہے، اور وہ کرپشن ہے۔ ہندوستان میں کرپشن اپنی آخری حد تک بڑھ چکا ہے۔ اسی کا ایک نتیجہ خراب ٹیلی فون کی شکل میں یہاں کے عوام کو مل رہا ہے۔ بنگلہ دیش میں کرپشن نسبتاً کم ہے، اس لئے وہاں ٹیلی فون اور دوسری چیزوں میں وہ بگاڑ دکھائی نہیں دیتا جو ہندوستان میں دکھائی دیتا ہے۔

واپسی کے بعد ۱۶ جون ۲۰۰۱ کو یہ خبر آئی کہ ڈھاکہ کے قریب نرائن گنج میں حکمراں عوامی لیگ کے دفتر میں ایک طاقت ور بم پھٹا۔ تقریباً ۵۲ آدمی ہلاک ہو گئے اور ۱۰۰ سے زیادہ زخمی ہوئے۔ باہمی ٹکراؤ اور ہلاکت کا یہ سلسلہ بنگلہ دیش کی آزادی کے بعد شیخ مجیب الرحمن کے قتل (۱۹۷۵) سے شروع ہوا اور اب تک جاری ہے۔

آزادی دراصل گدی کی لڑائی کا دوسرا نام ہے ۔ سیاسی گدی کو پہلے دوسروں سے چھینا، اور پھر اس کے لیے آپس میں ایک دوسرے سے چھین جھپٹ شروع کر دینا۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2002 All issues

Printed page