سوال وجواب
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۲، صفحہ ۴۶
جواب
قتالِ اسلام میں ایک مشروط حکم ہے، نہ کہ کوئی مطلق حکم۔ یعنی ایسا نہیں ہے کہ نماز روزے کی طرح قتال بھی ہر حال میں جاری رکھنا ہے۔ قتال صرف اُس وقت کے لیے ہے جب کہ کسی خارجی طاقت کی جارحیت کی بنا پر دفاع کا مسئلہ پیدا ہو گیا۔ اس دفاع کی بھی کئی لازمی شرطیں ہیں۔ اُن شرطوں کی تکمیل کے بغیر دفاعی قتال بھی جائز نہیں۔ اس معاملہ کی وضاحت اس سے پہلے الرسالہ میں آچکی ہے۔ جہاں تک اہلِ مغرب کا تعلق ہے، اُن کے مقابلہ میں ہمارا کام قتال نہیں ہے بلکہ دعوت ہے۔ عمومی طور پر سارے مسلمانوں کے لیے اور خصوصی طور پر یورپ اور امریکہ میں مقیم مسلمانوں کے لیے فرض کے درجہ میں لازم ہے کہ وہ تمام ضروری آداب و شرائط کے ساتھ اُن قوموں کو اسلام کا پیغام پہنچائیں۔ یہ دعوتی کام پوری طرح پر امن انداز میں ہونا چاہئے۔ مؤثر دعوتی عمل کے لیے مسلمانوں پر یہ بھی لازم ہے کہ وہ مسلم اور غیر مسلم کے درمیان وہ معتدل فضا قائم کریں جس کے اندر دعوت کا کام مطلوب انداز میں جاری ہو سکے۔
سوال
آپ نے ۱۹۹۳ میں بابری مسجد کے مسئلہ میں جو دو نکاتی فارمولا پیش کیا تھا وہ بلاشبہ بہترین فارمولا تھا مگر اس کے اعلان کے لئے آپ نے صحیح وقت کا انتخاب نہیں کیا۔ ایک صحیح فارمولا غلط وقت کی وجہ سے وہ مقبولیت حاصل نہ کر سکا جس کی ضرورت تھی۔ (ایک قاری الرسالہ، ناگپور) جواب آپ کا یہ خیال درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جس وقت میں اپنا یہ فارمولا پیش کیا وہی اس کو پیش کرنے کا موزوں ترین وقت تھا۔ اس قسم کے نازک اشو وقت گزرنے کے ساتھ پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اس لئے اس قسم کے کسی مسئلہ پر اس کے عملی حل کا فارمولا پیش کرنے کا سب سے زیادہ صحیح وقت وہی ہوتا ہے جب کہ مسئلہ کا آغاز ہوا ہو۔ اس معاملہ میں دیر کرنا گویا کہ کام کے اصل موقع کو کھودینا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2002 All issues