جہاد پر امن عمل کا نام ہے
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۲، صفحہ ۴۰۷
کے لیے جو جنگ کی جائے اُس کو جہاد نہیں کہا جائے گا۔
قرآن میں اس سلسلہ میں دو مختلف لفظ استعمال کئے گئے ہیں ـــــ جہاد اور قتال۔ جب پر امن جد و جہد مراد ہو تو وہاں قرآن میں جہاد کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً قرآن کے ذریعہ پر امن دعوتی جد و جہد (الفرقان ۵۲)۔ اور جب باقاعدہ جنگ مراد ہو تو وہاں قرآن میں قتال کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ مثلاً آل عمران ۱۲۱۔ تاہم بعد کے زمانہ میں جہاد کا لفظ اکثر قتال کے ہم معنی لفظ کے طور پر استعمال کیا جانے لگا۔ جہاد کے لفظ کے اس استعمال کو اگر بالفرض درست مانا جائے تب بھی وہ جہاد کے لفظ کا ایک توسیعی استعمال ہوگا، نہ کہ اُس کا حقیقی استعمال۔
اپنے حقیقی مفہوم کے اعتبار سے جہاد ایک پر امن عمل کا نام ہے، نہ کہ متشددانہ عمل کا نام۔ جہاد کا عمل انسان کو ذہنی اور روحانی طور پر بدلنے کے لیے ہوتا ہے، نہ کہ انسان کو قتل کرنے کے لیے۔ ہر حال میں امن پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم انتہائی حد تک ایک امن پسند آدمی تھے۔ آپ کے مخالفین نے بار بار آپ کو لڑائی میں الجھانا چاہا مگر ہر بار آپ اعراض کر کے لڑائی سے بچتے رہے۔ تاہم چند بار یک طرفہ جارحیت کی بنا پر آپ کو وقتی طور پر دفاعی جنگ کے لیے مجبور ہونا پڑا۔ انہی چند دفاعی جنگوں میں سے ایک بدر کا غزوہ ہے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ عین اُس وقت جب کہ دونوں طرف کی فوجیں آمنے سامنے کھڑی تھیں، پیغمبرِ اسلام کے پاس خدا کا فرشتہ آیا۔ اُس نے کہا کہ اے محمد، اللہ نے آپ کو سلام (سلامتی) کا پیغام بھیجا ہے۔ یہ سُن کر پیغمبرِ اسلام نے فرمایا: هو السلام ومنه السلام واليه السلام ۔ (البدایہ والنہایہ، الجزء الثالث، صفحہ ۲۶۷) یعنی اللہ سلامتی ہے اور اُس سے سلامتی ہے اور اُسی کی طرف سلامتی ہے۔
اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ عین لڑائی کے وقت بھی پیغمبرِ اسلام ایک امن پسند انسان بنے ہوئے تھے۔ اُس ہنگامی وقت میں بھی ایسا نہ تھا کہ آپ کا ذہن نفرت اور تشدد سے بھر جائے بلکہ اُس وقت
‹ Previous page Next page › Contents of October 2002 All issues