اختلاف کی حد
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۲، صفحہ ۴۱۳
پر ایسا ہے کہ جب کوئی شخص نرمی اور عدم تشدد کے حدود میں رہ کر کام کرے تو اُس کا کام زیادہ نتیجہ خیز بن جاتا ہے۔ اور جو شخص سختی اور تشدد کا طریقہ اختیار کرے اُس کا کام آگے بڑھنے کے بجائے اور پیچھے کی طرف چلا جاتا ہے۔
اصل یہ ہے کہ جب بھی کوئی شخص سختی اور تشدد کا طریقہ اختیار کرے تو اُس کی کوششیں غیر ضروری طور پر دو محاذوں میں بٹ جاتی ہیں۔ ایک محاذ، اپنی داخلی تعمیر کا۔ اور دوسرا محاذ، خارجی حریف سے لڑنے کا۔ اس کے برعکس جو شخص نرمی اور عدم تشدد کا طریقہ اختیار کرے، اُس کے لیے یہ ممکن ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی تمام موجود طاقتوں کو صرف ایک محاذ، داخلی تعمیر کے محاذ پر لگائے، اور اُس کے فطری نتیجہ کے طور پر زیادہ بڑی ترقی حاصل کرلے۔
اس حدیث میں فطرت کے اس قانون کا ذکر ہے جس پر ہماری دنیا کا نظام چل رہا ہے۔ یہاں جو کچھ کسی کو ملتا ہے وہ اسی نظام کے تحت ملتا ہے، اس کے بغیر نہیں۔ فطرت کا یہ نظام تمام تر امن اور عدم تشدد کے اصول پر قائم ہے۔ اس لیے یہاں جب بھی کسی کو کچھ ملے گا، امن اور عدم تشدد کے اصول پر ملے گا، اُس سے انحراف کر کے کسی کو کچھ ملنے والا نہیں۔
اختلاف کی حد
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک طرف یہ فرمایا کہ: افضل الجهاد كلمة عدل عند سلطان جائر، افضل الجهاد كلمة عدل عند امیر جائر (ابوداؤد، کتاب الملاحم، الترمذی، کتاب الفتن، النسائی، کتاب البیعة، ابن ماجه، کتاب الفتن، مسند احمد) یعنی ظالم حکمران کے سامنے حق وعدل کی بات کہنا افضل جہاد ہے۔
دوسری طرف حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام نے فرمایا: من رأى من أميره شيئاً فكرهه فليصبر (البخاری، کتاب الأحکام، مسلم، کتاب الاماره، الدارمی، کتاب السیر، مسند احمد) یعنی جو شخص اپنے حاکم میں ایسی چیز دیکھے جو اُس کو پسند نہ ہو تو وہ اُس پر صبر کرے۔ اسی طرح آپ نے فرمایا: تسمع وتطيع الأمير وإن ضرب ظهرك وأخذ مالك (صحیح مسلم، کتاب الایمان) یعنی تم
‹ Previous page Next page › Contents of October 2002 All issues