Al-Risala · November 2002 · page

جنگ سے امن تک

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۲

جنگ سے امن تک

قرآن میں دو مقام پر یہ آیت آئی ہے کہ فتنہ کو ختم کرنے کے لئے جنگ کرو (وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة ) ۔ اس آیت میں فتنہ سے مراد مذہبی جبر (religious persecution) ہے۔ اس آیت کے ذریعہ رسول اور اصحاب رسول کو حکم دیا گیا کہ تم لوگ مذہبی جبر کے موجودہ نظام کو توڑ دو تا کہ دنیا میں مذہبی آزادی کا ماحول قائم ہو جائے۔ جو لوگ اللہ کے دین کو اختیار کرنا چاہیں اُن کے راستہ میں کوئی پابندی باقی نہ رہے۔ واضح ہو کہ پیغمبر اسلام کے معاصر قوتوں نے آپ کے خلاف خود ہی بدء (التوبہ ۱۳) کا عمل کیا۔ اس طرح انہوں نے جارحیت کا آغاز کر کے فتنہ کے خلاف آپ کے آپریشن کو دفاعی جنگ کی صورت دے دی۔

اس آیت میں ایک معلوم اور متعین مقصد کے لیے جنگ کا حکم دیا گیا تھا، اور وہ تھا مذہبی جبر کا خاتمہ۔ اس آیت کو لے کر کسی اور مقصد کے لیے جنگ چھیڑ نا درست نہ تھا۔ مگر بعد کے زمانہ میں ایسا کیا گیا کہ قتال فتنہ کے حکم کی توسیع کر کے اُس کو دوسرے مقاصد کے لیے استعمال کیا جانے لگا۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ ایک انحراف (deviation) یا گاڑی کا اپنی پٹری سے اُترنا (derailment) تھا۔ مگر ایسا ہوا اور اس کا سلسلہ کسی نہ کسی عنوان سے آج تک جاری ہے۔

۱۔ اس سلسلہ میں پہلا انحراف اصحاب رسول کی دوسری نسل (second generation) میں پیش آیا۔ اس معاملہ میں دو نام زیادہ نمایاں ہیں۔ ایک الحسین بن علی (م ۶۱ ھ) اور دوسرے عبداللہ بن الزبیر (م ۷۳ ھ)۔ دونوں حضرات نے اموی حکمراں یزید بن معاویہ کے خلاف خروج (بغاوت) کیا۔ دونوں حضرات نے اپنے عمل کے وجہ جواز کے طور پر یزید کے ظلم کا حوالہ دیا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ جس قتال فتنہ کا تعلق مذہبی جبر سے تھا اُس میں تصرف کر کے اُس کو انہوں نے سیاسی بدعنوانی (political corruption) تک وسیع کر دیا۔

قتال فتنہ کے حکم کی یہ توسیع بلاشبہ ایک اجتہادی خطا تھی۔ اس کا قطعی ثبوت یہ ہے کہ

‹ Previous page Next page › Contents of November 2002 All issues

Printed page