جنگ سے امن تک
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۲
پیغمبر اسلام ﷺ نے واضح طور پر یہ حکم دیا تھا کہ میرے بعد حکمرانوں کے بگاڑ کو لے کر ہرگز اُن کے خلاف خروج نہ کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ ان دونوں حضرات کی جنگوں کے وقت صحابہ کرام کی بڑی تعداد موجود تھی، مگر وہ ان جنگوں میں شریک نہیں ہوئے۔ حضرت عبداللہ بن عمر نے واضح طور پر اعلان کیا کہ بعد کے زمانہ کی یہ جنگ قتال فتنه کے حکم سے انحراف ہے نہ کہ اُس کا اتباع (صحیح البخاری، کتاب التفسیر) ۲۔ اس سلسلہ کا دوسرا انحراف زیادہ بڑے پیمانہ پر خلافت راشدہ کے بعد شروع ہوا اور پھر تقریباً ہزار سال تک جاری رہا۔ یہ انحراف مسلم حکمرانوں کی طرف سے کیا گیا۔ انہوں نے مذہبی جبر کے خلاف جنگ کے مفہوم میں اضافہ کر کے اُس کو مسلم سلطنت کی توسیع (political expansion) کے معنی میں لے لیا۔ وہ پوری دنیا میں مسلم سلطنت کی توسیع کے لیے لڑائیاں لڑتے رہے۔ قتال فتنه کے حکم کی یہ توسیع بھی بلاشبہ ایک انحراف تھی۔ قرآن میں امت کو جو عالمی مشن دیا گیا تھا وہ شہادت علی الناس تھا، نہ کہ لوگوں کے اوپر اپنا سیاسی اقتدار قائم کرنا۔ یہی بات پیغمبر اسلام نے حجۃ الوداع کے موقع پر اس طرح فرمائی کہ اللہ نے مجھ کو سارے انسانوں کے لیے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے۔ اس لیے تم میرے لائے ہوئے پیغام کو میری طرف سے تمام دنیا والوں تک پہنچا دو (فا دعوٰنی) اس اعتبار سے بعد کے دور میں مسلمانوں کا اصل کام دعوت الی اللہ تھا، نہ کہ اقتدار کی سیاست چلانا۔ ۳۔ اس سلسلہ کا تیسرا شدید تر انحراف وہ ہے جو موجودہ زمانہ میں پیش آیا۔ یہ کچھ مسلم مفکرین کی طرف سے مذکورہ قرآنی آیت کی نام نہاد انقلابی تفسیر تھی۔ ان لوگوں نے آیت کے حکم میں خود ساخته توسیع کر کے اُس کو قتال برائے تنفيذ احکام کے معنی میں لے لیا۔ انہوں نے کہا کہ اس آیت کے مطابق، ہر زمانہ کے مسلمانوں پر یہ فرض ہے کہ وہ حکمرانوں سے جنگ کر کے اسلام کے احکام کو ہر جگہ نافذ کریں۔
قتال فتنے کے حکم میں یہ توسیع ایک مہلک قسم کا انحراف ہے۔ اس نے مسلمانوں کے اندر غلط طور پر یہ ذہن پیدا کیا کہ ہر جگہ اسلامی حکومت قائم کرنا اُن کا مذہبی فریضہ ہے۔ اس کے نتیجہ میں ہر جگہ جہاد کے نام پر تشدد ہونے لگا۔ کچھ مسلمان گن اور بم لے کر دنیا والوں پر ٹوٹ پڑے۔ دوسرے مسلمان
‹ Previous page Next page › Contents of November 2002 All issues