امن برائے امن
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۲
جنہوں نے اس متشددانہ فعل میں عملاً شرکت نہیں کی وہ بھی اس انقلابی نظریہ سے اتنا مسحور ہوئے کہ وہ اس کی ہمت نہ کر سکے کہ وہ کھل کر اُس کی مذمت کریں اوراُس کے غیر اسلامی ہونے کا اعلان کریں۔ بیسویں صدی عیسوی کی پوری اسلام کے نام طورپر اس غیر اسلام کا نمونہ بن گئی۔ اس کا نتیجہ دو مہلک صورتوں میں برآمد ہوا۔ ایک اسلام کی بدنامی ۔ ساری دنیا میں اسلام خلاف واقعہ پر نفرت اور تشدد کا مذہب سمجھا جانے لگا۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ لندن کے مشہور انگریزی روزنامہ میں اسلام کے بارے میں ایک آرٹیکل چھپا جس کا عنوان یہ تھا ۔ ایک مذہب جو تشدد کو جائز قرار دیتا ہے : A religion that sanctions violence. دوسری خرابی یہ ہوئی کہ موجودہ زمانہ میں اسلامی دعوت کے حق میں جو نئے قیمتی امکانات پیدا ہوئے تھے وہ استعمال ہونے سے رہ گئے ۔ مسلمان خود ساختہ جہاد کے نام سے اپنے آپ کو بے فائدہ طور پر ہلاک کرتے رہے وہ جدید مواقع کو استعمال کر کے اسلام کا حیات بخش پیغام دوسروں تک نہ پہنچا سکے۔
اکیسویں صدی عیسوی میں مسلمانوں کے لیے پہلا ضروری کام اسی غلطی کی تصحیح ہے۔ کوئی بھی دوسرا کام کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ اسلام کے نام پر ہونے والے تشدد کو فوری طور پر اور مکمل طور پر بند کر دیا جائے۔ اس معاملہ میں کسی بھی عذر خواہ وہ بظاہر کتنا ہی سنگین ہو را کٹ نہ بنایا جائے۔ موجودہ زمانہ میں اسلام کے حقیقی احیاء کا نقطہ آغاز یہی ہے۔ نفرت اور تشدد کے ماحول کو ختم کر کے اہل اسلام سب کچھ حاصل کر سکتے ہیں اس کے بغیر کچھ بھی نہیں۔
امن برائے امن
امن (peace) کیا ہے ۔ اہل علم اس کی تعریف اس طرح کرتے ہیں کہ امن عدمِ جنگ (absence of war) کا نام ہے ۔ یعنی جنگ نہ ہو رہی ہو تو کہا جائے گا کہ امن قائم ہے۔ جنگ کی حالت نہ ہونے کا نام امن کی حالت ہے۔ جو لوگ اپنے کسی حق (right) کے نام پر متشددانہ جنگ کر رہے ہیں وہ اس سے اتفاق نہیں کرتے ۔ وہ کہتے ہیں کہ امن مع انصاف (peace with justice)
‹ Previous page Next page › Contents of November 2002 All issues