Al-Risala · November 2002 · page

جنگ کا دور ختم

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۲

کا نام امن ہے۔ جس امن سے انصاف حاصل نہ ہو وہ امن بھی نہیں۔

یہ دوسرا نظریہ ایک غلط سوچ کا نتیجہ ہے۔ جو لوگ اس طرح سوچیں اُن کو نہ کبھی امن ملے گا اور نہ کبھی انصاف۔ حقیقت یہ ہے کہ امن کا مقصد مواقع (opportunities) کو حاصل کرنا ہے نہ کہ انصاف کو حاصل کرنا۔ امن بجائے خود کسی کو انصاف نہیں دیتا۔ امن صرف یہ کرتا ہے کہ وہ معتدل حالات قائم کر دیتا ہے جس میں عمل کر کے انصاف یا حق حاصل کیا جا سکے۔

موجودہ دنیا میں جب بھی کسی کو کوئی چیز ملتی ہے وہ اُس کے اپنے عمل کے نتیجہ میں ملتی ہے۔ امن کا فائدہ صرف یہ ہے کہ وہ آپ کے حق میں وہ معتدل حالات پیدا کر دے جس میں آپ کے لیے اپنے موافق منصوبہ بندی کرنا ممکن ہو جائے۔ جنگ و تشدد کے حالات کام کے مواقع کو برباد کرتے ہیں۔ جب کہ امن اور صلح کے حالات کام کرنے کے تمام دروازے اس طرح کھول دیتے ہیں کہ اُس کا کوئی دروازہ بند نہیں رہتا۔

جنگ کا دور ختم

پائرس (Pyrrhus) قدیم یونان کا ایک بادشاہ تھا۔ وہ ۳۱۹ ق م میں پیدا ہوا اور ۲۷۹ ق م میں اُس کی وفات ہوئی۔ ۲۷۲ ق م میں اُس کی لڑائی رومیوں (Romans) سے ہوئی۔ اس جنگ میں شاہ پائرس جیت گیا۔ مگر جب لڑائی ختم ہوئی تو اُس کی اقتصادیات اور اُس کی سیاسی اور فوجی طاقت پوری طرح تباہ ہو چکی تھی۔ اسی واقعہ سے پرک وکٹری (Pyrrhic Victory) کی اصطلاح بنی ہے، یعنی تباہ کن فتح۔

قدیم زمانہ میں پرک وکٹری یا تباہ کن فتح کا واقعہ بہت کم پیش آ سکتا تھا۔ مگر موجودہ زمانہ میں جدید ہتھیاروں کی ایجاد کے بعد ہر جنگ تباہ کن جنگ بن چکی ہے۔ اب جنگ جیتنے والے اور جنگ ہارنے والے کے درمیان اتنا ہی فرق ہوتا ہے کہ اخباروں میں دونوں کی خبریں الگ الگ الفاظ میں چھپتی ہیں، ورنہ حقیقت کے اعتبار سے دونوں کا معاملہ ایک ہوتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں ہار بھی ہار ہے اور جیت بھی ہار۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2002 All issues

Printed page