جنگ کا دور ختم
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۲
موجودہ زمانہ میں جنگ صرف خودکشی ہے، جنگ اب کسی مثبت مقصد کو حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں۔ کسی قوم سے کوئی چیز کھوئی گئی ہو تو اُس کے لیے صبر ہے نہ کہ جنگ۔ کیوں کہ جنگ اب اس کے لیے محرومی پر ذلت کا اضافہ ہے۔ امن کا بدل جنگ نہیں، امن کا بدل گفت و شنید ہے۔ اس معاملہ کی ایک مثال پاکستان کی تاریخ میں ملتی ہے۔ پاکستان ۱۷۱۹ میں بنا۔ اس وقت بنگلہ دیش پاکستان کا مشرقی حصہ تھا۔ پھر ایسے حالات پیش آئے کہ بنگلہ دیش پاکستان سے پوری طرح الگ ہوگیا۔ آخرکار پاکستان نے حقیقت پسندی کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے اس جغرافی محرومی پر صبر کر لیا۔ اگر پاکستان ایسا نہ کرتا تو وہ اپنے کھوئے ہوئے حصہ کی خاطر اپنے بقیہ حصہ کو بھی تباہ کر لیتا۔ جنگ کا مطلب نتیجہ کے اعتبار سے یہ ہے کہ جو کچھ بچا ہے اس کو بھی کھو دیا جائے‘ جزئی محرومی کو کلی محرومی بنا دیا جائے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جنگ اب کسی کے لیے بھی کوئی انتخاب (option) نہیں۔ آج کی جنگ میں ہارنے والے کے لیے بھی ہار ہے اور جیتنے والے کے لیے بھی ہار۔ تاہم اس میں مایوسی کی کوئی ضرورت نہیں۔ دورِ جدید نے اگر ایک طرف جنگ کو ناممکن بنا دیا ہے تو دوسری طرف جدید دور کے نتیجہ میں ایسی انقلابی تبدیلیاں ظہور میں آئی ہیں کہ کوئی بھی محرومی کسی کے لیے محرومی ثابت نہ ہو۔ آج کوئی فرد یا گروہ خواہ وہ کسی بھی حال میں ہو‘ از سرِ نو اپنی منصوبہ بندی کر کے دوبارہ پہلے سے زیادہ بڑی کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ کھونے کے بعد وہ کامیابی کے نئے امکانات کو پاسکتا ہے موجودہ زمانہ میں کمیونیکیشن نے چھوٹے ملک اور بڑے ملک کے فرق کو مٹا دیا ہے۔ گلوبلائزیشن کے جدید دور نے جغرافی محدودیت کے تصور کو عملاً غیر مؤثر بنا دیا ہے۔ جدید تبدیلیوں کے بعد اب جنگ کی حیثیت کسی صحت مند انتخاب کی نہیں رہی۔
اب جنگ سادہ طور پر صرف جنگ نہیں‘ وہ غصہ اور نفرت اور مایوسی کے تحت پیش آنے والا ایک منفی واقعہ ہے‘ نہ کہ کسی تعمیری منصوبہ بندی کا مثبت نتیجہ۔ اب جنگ صرف خودکشی کی مایوسانہ چھلانگ ہے‘ وہ کسی صحت مند ذہن کے تحت کیا ہوا مفید اقدام نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2002 All issues