Al-Risala · November 2002 · page

صحبت کا فلسفہ

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۲

صحبت کا فلسفہ

عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو اسلام میں جو امتیازی درجہ ملا وہ صحبت رسول کی بنا پر تھا۔ یہ بات بجائے خود صحیح ہے۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ صحبت کوئی پر اسرار (mysterious) چیز ہے اور اُس کی پر اسرار تاثیر کے نتیجہ میں اصحاب رسول کو مجرد صحبت کی بنا پر خود بخود یہ فائدہ حاصل ہوا۔ یہ نظریہ علمی طور پر درست نہیں۔ وہ اس معاملہ کی پوری توجیہہ نہیں کرتا۔ مثلاً اس نظریہ میں اس واقعہ کی توجیہہ موجود نہیں کہ مدینہ کے سیکڑوں دوسرے لوگ جو بظاہر ایمان لائے اور پیغمبر کی صحبت میں بار بار بیٹھے، مگر وہ آپ کی صحبت سے فیض حاصل نہ کر سکے اور اسلام کی تاریخ میں منافق کہلائے گئے۔

اصل یہ ہے کہ کسی انسان کے لیے اعلیٰ ایمان حاصل کرنے کا ذریعہ صرف ایک ہے اور وہ ہے معرفت یا ذہنی ارتقاء۔ ایمان قبول کرنے کے بعد آدمی کے اندر معرفت کے رُخ پر ایک تفکیری عمل (thinking process) جاری ہوتا ہے۔ یہ تفکیری عمل ہی دراصل کسی مومن کے لیے اعلیٰ ایمانی درجہ حاصل کرنے کا واحد ذریعہ ہے۔

پیغمبر کی صحبت میں دراصل یہی تفکیری عمل جاری رہتا تھا۔ لوگ آپ کی باتوں کو سنتے، وہ آپ کی باتوں کو اپنے ذہن میں اس طرح جگہ دیتے کہ وہ اُن کے ذہن میں ہلچل پیدا کر دیتا۔ اس طرح اُن کے اندر تفکیر کا عمل مسلسل ہر صبح و شام جاری رہتا۔ رسول اللہ کی صحبت اس تفکیری عمل کا ذریعہ تھی، اس لیے اُس کو صحبت رسول سے منسوب کیا گیا۔

تاہم پیغمبر کی باتیں سادہ طور پر صرف سننا کافی نہیں۔ پیغمبر کی باتیں صرف اُس انسان کے لیے مفید بنیں گی جو ریسیپٹیو (receptive) ہو، جو یکسو ہو کر سنے اور پھر نفسیاتی پیچیدگیوں سے آزاد ہو کر اُس کو قبول کر سکے۔ مخلص اہل ایمان میں یہ قبولیت (receptivity) پوری طرح موجود تھی اس لیے اُن کو صحبت رسول کا فائدہ ہوا۔ منافقین کے اندر یہ قبولیت موجود نہ تھی

‹ Previous page Next page › Contents of November 2002 All issues

Printed page