Al-Risala · November 2002 · page

صحبت کا فلسفہ

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۲

اس لیے وہ صحبت رسول کے باوجود اُس کا فائدہ نہ پاسکے۔

صحابیت کی تعریف یہ کی جاتی ہے کہ: من رأى النبي صلى الله عليه وسلم مؤمنا به و مات على ذلك فهو صحابی (جس شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حالتِ ایمان میں دیکھا اور اس پر اس کی موت واقع ہوئی تو وہ صحابی ہے)۔ یہ تعریف صحابیت کی ایک ناقص تعریف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ صحبت کا مفہوم متعین کرنے کے لیے یہ دیکھنا ہوگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عملی طور پر صحبت کی صورت کیا تھی۔ وہاں ایسا نہ تھا کہ مجلس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش بیٹھے ہوں اور صحابہ بھی بعد از ایمان آپ کی صحبت میں خاموش بیٹھ کر صرف آپ کو دیکھتے رہتے ہوں ۔ آپ کی صحبت میں ہمیشہ تفکر و تدبر کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔ قرآن کے الفاظ میں یہ تعلیم حکمت کا ایک حلقہ ہوتا تھا۔

اس کے برعکس واقعات بتاتے ہیں کہ آپ کی صحبت ایک زندہ صحبت تھی۔ آپ ان لوگوں کے سامنے نعمت رب کی تحدیث فرماتے تھے (الضحیٰ)۔ آپ حاضرین کو اُس رزقِ رب سے باخبر کرتے تھے جس کی توفیق آپ کو اللہ کی طرف سے دی جاتی تھی (طہ) آپ قرآن کی آیتوں کی تشریح فرماتے تھے۔ آپ لوگوں کے سوال کا جواب دیتے تھے۔ آپ وہ باتیں فرماتے تھے جس سے لوگوں کا شک یقین میں بدل جاتا تھا۔ آپ لوگوں کو ذکر و دعا اور حمد و شکر کے کلمات کی تعلیم دیتے تھے۔ آپ لوگوں کو قرآن کے نازل شدہ حصے سناتے تھے۔ آپ لوگوں کو پچھلے انبیاء اور پچھلے اہلِ ایمان کے پُر تاثیر واقعات کی خبر دیتے تھے، وغیرہ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں بیٹھنے والے آپ سے اس قسم کی زلزلہ خیز باتیں سنتے تھے۔ آپ کی صحبت میں لوگوں کو اس طرح فکری ہلچل کی غذا ملتی تھی۔ آپ کی صحبت مکمل معنوں میں ایک زندہ صحبت تھی۔ آپ کی صحبت کا اس طرح زندگی بخش ہونا وہ اصل سبب تھا جس نے آپ کے ہم زمانہ اہلِ ایمان کو وہ عظیم درجہ دے دیا جس کو تاریخ میں اصحابِ رسول کہا جاتا ہے۔ یہ فکری انقلاب کا ایک واقعہ تھا نہ کہ سادہ طور پر صرف صحبت میں بیٹھنے کا۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2002 All issues

Printed page