انتقام سے تشدد تک
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۲
استعمال کرنے کے لیے کافی نہ سمجھا جائے۔
موجودہ دنیا اختلافات کی دنیا ہے۔ یہاں ہر آدمی مسٹر ڈفرنٹ اور ہر عورت مز ڈفرنٹ ہے۔ اس لیے اس دنیا میں لازمی طور پر لوگوں کے درمیان طرح طرح کے اختلافات پیدا ہوتے ہیں۔ یہی اختلاف جذباتی صورت اختیار کر کے لوگوں کو نفرت اور تشدد تک پہنچاتا ہے۔ اور پھر سارا سماج قبرستان کا نمونہ بن جاتا ہے۔
اس مسئلہ کا ایک ہی حل ہے۔ اور وہ یہ کہ لوگوں کے اندر یہ ذہن بنایا جائے کہ تم کو ہر حال میں امن کے دائرہ میں کام کرنا ہے۔ کسی بھی حال میں تم کو امن کے دائرہ سے باہر نہیں جانا ہے۔ یہ ذہن اُس وقت بن سکتا ہے جب کہ لوگوں کو اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ کیا جائے کہ اس دنیا میں کوئی کام صرف امن کے ذریعہ بنتا ہے، تشدد کے ذریعہ کبھی کوئی کام بننے والا نہیں۔ تشدد صرف تخریب میں معاون ہوتا ہے، تشدد کبھی تعمیر میں معاون نہیں ہوتا۔
”مذہب خطرہ میں‘‘ جیسی سیاست کے ذریعہ کا یہ فائدہ تو ہوتا ہے کہ کچھ ہائی پروفائل میں بولنے والے لوگ قائد بن کر ابھر آئیں۔ وہ وقتی طور پر لوگوں میں نمایاں ہو جائیں۔ اُن کے گرد عوام کی بھیڑ اکٹھا ہو۔ مادی رونقیں اُنہیں حاصل ہو جائیں۔ مگر جہاں تک مذہب اور اہلِ مذہب کا تعلق ہے، اُن کے حصہ میں صرف یہ آتا ہے کہ معتدل ماحول سے محروم ہو کر وہ نفرت کے ماحول میں جینے پر مجبور ہو جائیں۔ تشدد کا شکار ہو کر وہ اپنے مستقبل کو غیر محفوظ بنالیں۔
مذکورہ قسم کی سیاست کا آخری نتیجہ صرف یہ ہوتا ہے کہ کچھ افراد ممتاز افراد (celebreties) بن کر نمایاں ہو جائیں۔ مگر یہ طریقہ مثبت معنوں میں قوم کی تعمیر نہیں کرتا اور نہ کر سکتا ہے۔ یہ طریقہ لیڈر سازی کے لیے کارآمد ہے، مگر وہ ملت سازی کے لیے ہرگز کار آمد نہیں۔
انتقام سے تشدد تک
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اگر ایک شخص کو دوسرے شخص سے کوئی تکلیف پہنچ جائے یا ایک گروہ کو دوسرے گروہ کی طرف سے کوئی ٹھیس پہنچے تو فوراً اُن کے اندر انتقام کا جذبہ بھڑک اُٹھتا ہے۔ وہ
‹ Previous page Next page › Contents of November 2002 All issues