Al-Risala · November 2002 · page

جنگ کا زمانہ ختم

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۲

فریق ثانی سے انتقام لینے کے لیے اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ تاریخ کی اس وارننگ کو بھول جاتے ہیں جو ہر جگہ خاموش الفاظ میں گونج رہی ہے ـــــــــ انتقام لینے سے پہلے سوچ لو کہ انتقام کا بھی انتقام لیا جائے گا۔

چنانچہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک فریق دوسرے فریق کے خلاف انتقام کی کارروائی کرتا ہے۔ پھر دوسرا فریق دوبارہ پہلے فریق سے انتقام لیتا ہے۔ اس طرح یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے جو صرف اُس وقت ختم ہوتا ہے جب کہ دونوں اتنے تباہ ہو جائیں کہ وہ مزید انتقام لینے کے قابل نہ رہیں۔ کسی فرد یا گروہ کے خلاف کوئی قابل شکایت بات پیش آئے تو اُس کا حل جوابی کارروائی نہیں ہے بلکہ اُس کو درگزر کر کے آگے بڑھ جانا ہے۔ درگزر کرنے سے معاملہ پہلے ہی مرحلہ میں ختم ہو جاتا ہے۔ اور اگر درگزر نہ کیا جائے تو نفرت اور انتقام اور تشدد کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔ انتقام کا رُخ دوسرے کے خلاف ہوتا ہے مگر اس کا سب سے زیادہ شکار خود انتقام لینے والا بنتا ہے۔ انتقامی پالیسی کی بھاری قیمت اُس کو یہ دینی پڑتی ہے کہ اُس کا دماغ منفی سوچ کا کارخانہ بن جائے ۔ وہ اپنے وسائل کو اپنی تعمیر میں صرف کرنے کے بجائے اُنہیں صرف دوسرے کی تخریب میں صرف کرنے لگے۔ دوسرے فریق نے اگر آپ کو پچاس فی صد نقصان پہنچایا تھا تو آپ اپنی انتقامی کارروائی کے نتیجہ میں اپنی بقیہ پچاس فی صد طاقت کو بھی ضائع کر دیتے ہیں۔ انتقام کا مطلب یہ ہے کہ قاتلانہ حملہ کے بعد کوئی شخص خود اپنے آپ کو ہلاک کرنے کی کوشش کرے ۔ حقیقت یہ ہے کہ انتقام ہر حال میں بُرا ہے اور انتقام نہ لیتے ہوئے معاملہ کو بھلا دینا ہر حال میں اچھا ہے۔ انتقام لینے والا اگر آپ کا دشمن تھا تو انتقام لے کر آپ خود اپنے دشمن بن جاتے ہیں۔ اور جو لوگ اپنے دشمن آپ بن جائیں اُن کو تباہی سے کون بچا سکتا ہے۔

جنگ کا زمانہ ختم

وسیع تر تقسیم میں جنگ کے دو دور ہیں۔ ایک وہ ابتدائی دور جب کہ جنگی مقابلہ کا فیصلہ تلوار کے ذریعہ ہوتا تھا۔ دوسرا دور جدید دور ہے جب کہ لڑائی میں بم کی طاقت استعمال کی جاتی ہے۔ دونوں

‹ Previous page Next page › Contents of November 2002 All issues

Printed page