Al-Risala · December 2002 · page

جوابات

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۲

وہ بیت اللہ کے قریب نہ آئیں (التوبہ ۲۸) یہ حکم خصوصی ہے، نہ کہ عمومی۔ (ب) قرآن کی جس آیت میں مشرکین کے قتل کا حکم ہے، اُس سے مراد رسول اللہ کے وہ معاصر لوگ ہیں جو مکہ میں تھے اور جنہوں نے اپنے مسلسل عمل سے یہ ثابت کیا تھا کہ وہ ظالم اور جارح لوگ ہیں۔ اس حکم کا دوسری اقوام یا دوسری نسلوں سے کوئی تعلق نہیں۔

(ج) قرآن کی جس آیت میں یہ حکم آیا ہے کہ اہل ایمان اہل کفر کو اپنا اولیاء نہ بنائیں اُس سے مراد زمانۂ رسالت کے وہ مخصوص اہل کفر ہیں جنہوں نے یک طرفہ طور پر دشمنی اور جارحیت کی روش اختیار کر رکھی تھی۔ یہ حکم بھی یقینی طور پر وقتی اور خصوصی ہے، نہ کہ ابدی اور عمومی۔ (د) اسی طرح قرآن کی جس آیت میں اہل ایمان کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے عدو سے مودت کا طریقہ اختیار نہ کریں، اُس کا تعلق صرف عرب کے ایک جارح گروہ سے ہے۔ یہ بلاشبہ ایک استثنائی حکم ہے۔ جہاں تک عداوت کے مقابلہ میں اسلام کے عمومی حکم کا تعلق ہے، وہ قرآن کی سورہ نمبر ۴۱، آیت نمبر ۳۴ میں بیان ہوا ہے۔ اس کے مطابق، اہل اسلام کو اپنے اعداء کے مقابلہ میں ردعمل کا طریقہ نہیں اختیار کرنا چاہئے بلکہ انہیں یک طرفہ حُسنِ سلوک کا طریقہ اختیار کرنا چاہئے۔ (ہ) قرآن کی جس آیت میں کفار اور منافقین سے جہاد کا حکم دیا گیا ہے اُس سے مراد ہرگز جنگ نہیں ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی منافقین سے جنگ نہیں کی۔ یہ دراصل تشدیدی لحظہ کی ایک مثال ہے جس کو مصلح بعض اوقات اصلاح کے لیے اختیار کرتا ہے۔ (و) قرآن کی جس آیت میں جاہلوں کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اُس سے مراد ناواقف اور بے خبر ہونا ہے۔ یعنی بے خبر لوگوں کو ایسا نہیں کرنا چاہئے کہ وہ باخبر شخص سے بے دلیل تکرار کرنے لگیں۔ (ز) مذکورہ آیت میں کفار سے مراد جارح کفار ہیں۔ یہ آیت بھی قرآن کے ایک خصوصی اور زمانی حکم کو بتاتی ہے، نہ کہ عمومی اور ابدی حکم کو۔ اس میں مسئلۂ جارحیت کا حکم بتایا گیا ہے، نہ کہ مذہبی اختلاف کا حکم۔

(ح) اس نمبر کے ذیل میں قرآن کی جس آیت کا حوالہ دیا گیا ہے اُس کا تعلق اُن لوگوں

‹ Previous page Next page › Contents of December 2002 All issues

Printed page