Al-Risala · December 2002 · page

جوابات

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۲

سے ہے جنہوں نے یک طرفہ جارحیت کرکے اہل اسلام پر حملہ کر دیا ہو اور اہل اسلام کو دفاع کے طور پر اُن سے لڑنا پڑے۔

(ط) اس آیت کا تعلق بھی حالت جارحیت سے ہے۔ اس آیت میں لا یدینون دین الحق کا لفظ صرف قید اتفاقی کے طور پر آیا ہے۔ اس حکم کا انطباق صرف دورِ اول کے کچھ لوگوں پر کیا گیا۔ اس کے بعد اس حکم کی توسیع نہیں کی گئی، جیسا کہ تاریخ سے ثابت ہے۔

آخر میں عرض ہے کہ قرآن کی مذکورہ آیتوں کا جو مفہوم راقم الحروف نے یہاں بیان کیا ہے وہ ان آیتوں کا کوئی نیا مفہوم نہیں۔ قرونِ مشہود لہا بالخیر میں عام طور پر ان آیتوں کا یہی مفہوم سمجھا گیا ہے اور اسی کے مطابق عمل کیا جاتا رہا ہے۔ میں نے اپنی تحریروں میں اسلام کے اس پہلو کو تفصیل کے ساتھ واضح کیا ہے۔ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتاب : دین انسانیت۔ تاہم موجودہ زمانہ میں کچھ مسلمانوں کو مذکورہ تشریحات اجنبی معلوم ہو سکتی ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں ایک نئی کمزوری پیدا ہوئی ہے جو اس سے پہلے کبھی مسلمانوں میں نہ تھی۔ اور وہ ہے غیر مسلموں کے خلاف نفرت۔ آج کل کے مسلمان عام طور پر غیر مسلموں کے بارے میں نفرت کی نفسیات میں جیتے ہیں۔ اور جو لوگ نفرت کی نفسیات میں جیتے ہوں وہ منفی باتوں کو تو خوب سمجھیں گے مگر مثبت باتیں ان کے لیے اجنبی ہو جائیں گی۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی یہ حالت اُس حدیث رسول کے عین مطابق ہے جس میں پیشگی طور پر یہ خبر دی گئی تھی کہ : بدأ الاسلام غریبا وسيعود كما بدأ (مسلم کتاب الایمان، الترمذی کتاب الایمان، ابن ماجہ کتاب الفتن، الدارمی کتاب الرقاق، مسند احمد) یعنی اسلام شروع ہوا تو وہ لوگوں کے لیے اجنبی تھا اور دوبارہ وہ لوگوں کے لیے اجنبی بن جائے گا جیسا کہ وہ پہلے اجنبی تھا۔ ۲۶ / ستمبر ۲۰۰۲

‹ Previous page Next page › Contents of December 2002 All issues

Printed page