Al-Risala · December 2002 · page 13

جوابات

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۲، صفحہ ۱۳

۸۔ "فرائیڈے اسپیشل"، عصرِ حاضر کے مفکرِ اسلام مولانا مودودیؒ پر خصوصی نمبر شائع کرنے جا رہا ہے جس میں مختلف پہلوؤں سے ان کی شخصیت پر مضامین شائع کرنے کا ارادہ ہے۔ اس کے تحت مولانا مرحوم کی قائم کردہ جماعتِ اسلامی سے متعلق مذکورہ سوال نامہ آپ کی خدمت میں ارسال کیا جا رہا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ آپ اس کا مفصل جواب عنایت فرمائیں گے۔

جوابات

۱۔ جماعت اسلامی کے اپنے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو اُس کی سب سے بڑی کامیابی یہ کہی جاسکتی ہے کہ اس نے ۱۹۴۰ء کے بعد ایک معمولی تنظیم کی حیثیت سے اپنا آغاز کیا اور اب جماعت اسلامی مادی اعتبار سے ایک مؤسسہ (stablshment) کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ مؤسسہ کے بیشتر ظاہری لوازم اُس نے اپنے گرد جمع کر لیے ہیں۔ لیکن اگر اسلام اور ملّتِ اسلام کے اعتبار سے دیکھا جائے تو شاید جماعت اسلامی کا کوئی قابلِ ذکر کارنامہ نہیں۔ اسلام کے اعتبار سے جماعتِ اسلامی کی سب سے بڑی فکری ناکامی یہ ہے کہ اُس نے اسلام کی غلط تعبیر پیش کی۔ اُس نے اسلام کو، وقت کے مروّجہ مزاج کے مطابق، سیاست کی اصطلاحوں میں بیان کیا۔ اس کا ثبوت جماعت اسلامی کا لٹریچر ہے۔ اس لٹریچر نے جن لوگوں کو متاثر کیا اُن کا حال یہ ہوا کہ وہ اسلام کو ایک قسم کا سیاسی نظریہ سمجھنے لگے۔ نتیجہ اسلام کا اصل پہلو، خشوع اور تقویٰ اور انابت اور اخبات اور ربانیت جیسی چیزیں اُن کے ذہن میں اپنا حقیقی مقام نہ پاسکیں۔ یہاں تک کہ جماعت اسلامی عملاً ایک قسم کی سیاسی پارٹی بن کر رہ گئی۔

۲۔ یہ خیال بجائے خود درست ہے۔ مگر یہ جماعت اسلامی کی مجبوری ہے، نہ کہ اُس کے نقطۂ نظر سے کوئی انحراف۔ اصل یہ ہے کہ جماعت اسلامی نے اقامتِ دین کا ایک خودساختہ تصور پیش کیا۔ اس خودساختہ تصور کے مطابق، اقامتِ دین کا مطلب یہ تھا کہ اسلام کو ایک مکمل قانونی اور سیاسی نظام کے

‹ Previous page Next page › Contents of December 2002 All issues

Printed page