Al-Risala · December 2002 · page

جوابات

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۲

طور پر قائم کیا جائے۔ میرے نزدیک یہ نظریہ غیر اسلامی بھی تھا اور غیر حقیقی بھی۔ چنانچہ جب واقعی حالات سے سابقہ پیش آیا تو معلوم ہوا کہ یہ رومانی تخیل حقائق کی دنیا میں قابل عمل ہی نہیں۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے، تجربہ ثابت کرتا ہے کہ جماعت اسلامی کا مفروضہ اقامت دین وہاں بھی قابل عمل نہیں۔ مگر پاکستان کے مخصوص حالات کی بنا پر وہاں کم از کم یہ ممکن ہے کہ سیکولرزم کے خلاف شور و غل کا ہنگامہ جاری رکھا جائے۔ چنانچہ جماعت اسلامی پاکستان میں یہی کام کر رہی ہے۔ اگر چہ اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ پاکستان میں جماعت اسلامی کی حیثیت ایک ایسی جماعت کی بن گئی جو صرف از عاج کی صفت (nuisance value) رکھتی ہے۔ وہ مشکلات پیدا کرنے والی (trouble maker) تو ضرور ہے مگر وہ کوئی تعمیری رول ادا کرنے والی نہیں۔ جہاں تک ہندوستان کا تعلق ہے، 1974ء کے بعد یہاں کے افراد جماعت بھی، جماعت اسلامی کے بانی کی تقلید میں سیکولرزم کو باطل اور غیر اسلامی نظریہ بتاتے رہے۔ مگر ایک عرصہ کے بعد اُن پر کھلا کہ ہندوستان جیسے ملک میں سیکولرزم کو باطل قرار دینے کے بعد اُن کے لیے دو میں سے ایک کا چوائس باقی رہتا ہے۔ یا تو وہ یہاں کے نظام کو طاغوتی نظام قرار دے کر اُس سے لڑیں اور اس راہ میں مرتے رہیں۔ یا پھر مصالحت کا طریقہ اختیار کر کے سیکولرزم کے زیر سایہ زندگی کا استحقاق حاصل کر لیں۔

سیکولرزم کے معاملہ میں جماعت اسلامی نے یہی مصالحانہ انداز اختیار کیا۔ میرے نزدیک سیکولرزم نہ تو طاغوتی نظریہ ہے اور نہ وہ غیر اسلامی ہے۔ سیکولرزم کے تحت ہم انتہائی جائز طور پر کسی ملک میں زندگی گزار سکتے ہیں۔ جماعت اسلامی اگر کھلے طور پر اس قسم کا اعلان کرتی تو وہ موجودہ تضاد کا شکار نہ ہوتی۔ مگر ایسی صورت میں اُس کو یہ اعلان کرنا پڑتا کہ سیکولرزم کے بارے میں اُس کا پچھلا نظریہ غلط اور انتہا پسندانہ تھا۔ اْس نے اس معاملہ میں اپنی غلطی کا اعتراف نہیں کیا اور غلطی کا اعتراف نہ کرنے کی قیمت ہمیشہ یہ دینی پڑتی ہے کہ آدمی تضاد فکری اور تضاد عملی کا شکار ہو جائے۔

۳۔ یہ صحیح ہے کہ جماعت اسلامی کے ابتدائی دور میں کچھ ممتاز علماء وقتی طور پر اس میں شریک دسمبر 2002 14 ترجمان القرآن

‹ Previous page Next page › Contents of December 2002 All issues

Printed page