Al-Risala · December 2002 · page

جوابات

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۲

ہوگئے تھے۔ ایک عرصہ کے بعد وہ اُس سے الگ ہوگئے۔ میرے نزدیک اس معاملہ میں اصل غلطی ممتاز علماء کی ہے، نہ کہ جماعت اسلامی کی۔ یہ علماء میرے نزدیک زیادہ غور وفکر کے تحت جماعت اسلامی میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ وہ زیادہ تر رومانی تخیل کے تحت اُس میں شریک ہوئے تھے۔ اور جب حالات نے رومانی تخیل کو توڑ دیا تو اس کے بعد اُن کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ اُس سے الگ ہوجائیں۔

اس سلسلہ میں ایک بات یہ ہے کہ جو علماء جماعت اسلامی میں شمولیت کے بعد اُس سے الگ ہوئے، اُن سب کے علیحدگی کا ایک ہی مشترک سبب تھا۔ اور وہ یہ کہ انہیں جماعت اسلامی کی عملی سیاست سے اختلاف تھا، نہ کہ فکری معنوں میں اس کے نظریہ سے۔ اصولی طور پر اس قسم کی علیحدگی کے لیے کوئی مبرر (justification) موجود نہیں۔

اس معاملہ میں صرف راقم الحروف کا استثناء ہے۔ جماعت اسلامی سے میری علیحدگی عملی اختلاف کی بنیاد پر نہ تھی بلکہ تمام تر فکری اور نظریاتی اختلاف کی بنا پر تھی جس کی تفصیل میری کتاب ’’تعبیر کی غلطی‘‘ میں دیکھی جاسکتی ہے۔ اس لیے جماعت اسلامی سے علیحدگی کے لیے میرے پاس تو مبرر رہے مگر دوسرے علماء کے پاس اس کا کوئی مبرر نہیں۔

۴۔ جماعت اسلامی کے ماضی اور حال میں یہ فرق ضرور پایا جاتا ہے۔ مگر یہ فرق فطری ہے۔ جماعت اسلامی کے قدیم کارکن وہ لوگ تھے جو جماعت کی پہلی نسل کی حیثیت رکھتے تھے اور اُس کے موجودہ کارکن اُس کی دوسری نسل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اور کسی بھی جماعت یا تحریک کی ابتدائی نسل اور بعد کی نسل میں اس قسم کا فرق پیدا ہونا تقریبا لازمی ہے۔

اس سلسلہ میں دوسری بات یہ ہے کہ جماعت اسلامی کے قدیم کارکن بھی اُس زمانہ میں جو کام کرتے تھے وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے اشاعت دین کا کام نہ تھا بلکہ اشاعت سیاست کا کام تھا۔ یہ لوگ دین کے نام پر جماعت اسلامی کے بانی کا وہ لٹریچر پھیلاتے تھے جو حقیقی معنوں میں اسلام کی مطلوب تشریح نہیں ہے بلکہ وہ اسلام کی خود ساختہ سیاسی تشریح ہے۔ میرے نزدیک ایسے کسی کام کو

‹ Previous page Next page › Contents of December 2002 All issues

Printed page