Al-Risala · December 2002 · page

جوابات

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۲

اشاعت دین کا عنوان نہیں دیا جاسکتا۔

۵۔ کارکنوں کے باہمی تعلقات کے بارے میں یہ شکایت بالکل درست ہے۔ مگر اس کا تعلق عروج وزوال کے فطری قانون سے ہے، نہ کہ خود جماعت اسلامی کے کسی داخلی سبب سے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ہر جماعت یا تحریک کی بعد کی نسلوں میں وہی گراوٹ آجاتی ہے جس کا مشاہدہ جماعت اسلامی کے موجودہ افراد میں کیا جارہا ہے۔

۶۔ الیکشن کے معاملہ میں جماعت اسلامی کے لوگوں میں اختلاف کا سبب یہ ہے کہ جماعت کے بانی نے ’’طاغوتی نظام‘‘ کے نام سے جو نظریہ پیش کیا، اُس کے مطابق، سیکولر جمہوری ریاست کے اندر الیکشن میں حصہ لینا حرام قرار پاتا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، تقسیم ملک کے بعد جماعت اسلامی کے بانی نے ایک دستوری نکتہ نکال کر یہ اعلان کر دیا کہ پاکستان کی ریاست نے کلمہ پڑھ لیا ہے اس لیے پاکستان میں الیکشن میں حصہ لینا جائز ہو گیا ہے۔

مگر ہندوستان میں یہاں کی ریاست کے بارے میں اس قسم کی ’’کلمہ گوئی‘‘ کا بہانہ موجود نہ تھا۔ ایسی حالت میں جماعت اسلامی کے مبینہ نظریہ کے مطابق، ہندوستان میں الیکشن میں حصہ لینا بدستور حرام تھا۔ مگر دھیرے دھیرے جماعت اسلامی والوں کو محسوس ہوا کہ اس قسم کا نظریہ سراسر ایک غیر عملی نظریہ ہے۔

اب جماعت اسلامی والوں کے لیے صحیح طریقہ یہ تھا کہ وہ یہ اعلان کر دیں کہ اُن کا طاغوتی نظام کا فلسفہ ایک انتہا پسندانہ نادانی تھی۔ وہ ایک سیاسی غلو تھا جس کا تعلق نہ اسلام سے ہے اور نہ عقل سے۔ اگر وہ اس طرح اپنی غلطی کا اعلان کر دیتے تو وہ کھلے طور پر الیکشن میں حصہ لے سکتے تھے۔ مگر انہوں نے ایسا اعلان نہیں کیا۔ اس کے نتیجہ میں جماعت اسلامی دو حصوں میں بٹ گئی۔ ایک وہ لوگ ہیں جو اعترافِ خطا کے بغیر الیکشن میں حصہ لینا درست سمجھتے ہیں اور دوسرے وہ لوگ ہیں جو بانی جماعت کی تقلید میں بدستور الیکشن کو حرام سمجھ رہے ہیں۔ جماعت اسلامی کے لیے اس مسئلہ کا حل یہ ہے کہ وہ یہ اعلان کر دے کہ اُؔس کا سابقہ طاغوتی نظریہ درست نہ تھا۔ اس اعلان کے بغیر یہی ہوگا کہ کچھ

‹ Previous page Next page › Contents of December 2002 All issues

Printed page