Al-Risala · December 2002 · page

جوابات

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۲

لوگ مصلحت پسندانہ طور پر الیکشن میں حصہ لیں گے اور کچھ لوگ تقلیدی طور پر اُس کو حرام سمجھتے رہیں گے۔

۷۔ جماعت اسلامی میں ٹھہراؤ اور جمود کی بات بلاشبہ درست ہے۔ مگر اس کا سبب لکھنے والوں کی کمی نہیں ہے بلکہ جماعت اسلامی میں اعتراف کی کمی ہے۔ اصل یہ ہے کہ جماعت اسلامی کا فکر ایک رومانی دور میں بنا۔ اس کے فطری نتیجہ کے طور پر جماعت اسلامی نے ایک ایسا فکری نظام بنایا جو عملی سے زیادہ تخیلاتی تھا۔ اس قسم کی رومانیت (romanticism) کا نتیجہ ہمیشہ یہی ہوتا ہے جو جماعت اسلامی کے اندر پیش آیا۔ اس مسئلہ کا واحد حل یہ ہے کہ جماعت اسلامی میں وہ تحریک چلے جس کو عام طور پر تحریک نظرثانی (revisionism) کہا جاتا ہے۔ یعنی جماعت اسلامی کے لوگ کھلے طور پر یہ مانیں کہ اُن کی جماعت کے بانی نے فکری ناپختگی کی بنا پر غلط نظریات قائم کیے اور اسلام کی ایسی تشریح کی جس کا تعلق نہ دین سے تھا اور نہ عقل سے۔ اس حقیقت واقعہ کو مان کر جماعت اسلامی کے فکر پر نظرثانی کی جائے اور اس کی تصحیح کر کے اُس کو شریعت اور حقائق کے مطابق بنایا جائے ۔ اس کے بعد جماعت اسلامی کی مذکورہ کمزوری اپنے آپ دور ہو جائے گی۔

جماعت اسلامی جس نظریہ پر اُٹھی وہ یہ تھا کہ انسانی اقتدار کا نام طاغوت ہے۔ اس نظریہ کے مطابق ، موجودہ دنیا میں ہر جگہ طاغوتی نظام قائم ہے۔ مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اس طاغوتی نظام کو توڑ کر خدائی اقتدار کا نظام قائم کرے۔ اس کوشش کے بغیر جو موت ہوگی وہ جاہلیت کی موت ہوگی۔ یہ نظریہ نہ صرف خود ساختہ تھا بلکہ وہ ناقابلِ عمل بھی تھا۔ اس لیے جماعت اسلامی کے لوگ دھیرے دھیرے اس نظریہ سے ہٹنے لگے۔ یہاں تک کہ وہ دوسری مسلم جماعتوں کی طرح ، صرف ایک ملی جماعت بن کر رہ گئے ۔ اس گراوٹ کے بعد اُن کے اندر وہ تمام خرابیاں آ گئیں جو کسی جماعت کے اندر اُس وقت پیدا ہوتی ہیں جب کہ اُس نے اعلان کے بغیر اپنا موقف بدل لیا ہو۔ اس کے بعد جماعت اسلامی اُسی طرح ایک مسلم قومی جماعت بن گئی جس طرح آر۔ ایس۔ ایس ایک ہندو قومی جماعت ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2002 All issues

Printed page