جوابات
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۲
اگر کوئی شخص ایسا کرے کہ وہ ایک طرف آر ایس ایس کے آرگن ، پانچ جنیہ اور آرگنائزر کے ایک سال کے شمارے اکٹھا کرے اور دوسری طرف وہ جماعت اسلامی کے آرگن دعوت اور ریڈینْس کے ایک سال کے شمارے اکٹھا کرے اور پھر دونوں کا تقابلی مطالعہ کرے تو وہ پائے گا کہ الفاظ کے فرق کے ساتھ دونوں میں حیرت انگیز مشابہت آر ایس ایس کے پرچے اگر اینٹی ہندو سازشوں اور اینٹی ہندو سرگرمیوں کے انکشاف کا دفتر ہیں تو جماعت اسلامی کے پرچے اینٹی مسلم سازشوں اور اینٹی مسلم سرگرمیوں کے انکشاف کا دفتر۔ یہ مشابہت اتنی زیادہ نمایاں ہے کہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ پانچ جنیہ اور آرگنائزر ہندوؤں کے دعوت اور ریڈینْس ہیں اور دعوت اور ریڈینْس مسلمانوں کے پانچ جنیہ اور آرگنائزر۔
اس کا نتیجہ یہ ہے کہ پانچ جنیہ اور آرگنائزر پڑھنے والے ہندو جس طرح مسلمانوں کے بارہ میں منفی سوچ کا شکار ہو جاتے ہیں، ٹھیک اسی طرح دعوت اور ریڈینْس پڑھنے والے بھی اینٹی ہندو سوچ کا شکار ہیں۔
اس منفی ذہن نے جماعت اسلامی کے افراد کو بیک وقت دو برے تحفے دیے ہیں۔ اس منفی ذہن کی بنا پر ایک طرف وہ لوگ دعوت کے قابل نہیں رہے ہیں۔ دعوت مدعو کے حق میں گہری خیر خواہی کے تحت پیدا ہوتی ہے۔ اب جو لوگ اپنے مدعو کے خلاف منفی سوچ میں مبتلا ہوں وہ مدعو کے حق میں یک طرفہ خیر خواہ نہیں بن سکتے۔ اس طرح کی منفی سوچ آدمی کو دعوت کے عمل کے لیے بالکل نااہل بنا دیتی ہے۔ آج کل جماعت اسلامی کے لوگ دعوت کے نام سے جو کچھ کر رہے ہیں، وہ میرے نزدیک ایک قسم کا پروفیشن ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں کوئی سنجیدہ مشن۔ وہ صرف ایک ظاہری نوعیت کا جماعتی پروگرام ہے، نہ کہ لعلّک باخع نفسک (الشعراء ۳) کی نفسیات کے تحت ظاہر ہونے والا کوئی ربانی عمل۔ اس منفی سوچ کا دوسرا اس سے بڑا نقصان یہ ہے کہ آدمی کا سینہ مثبت نفسیات سے خالی ہو جائے گا۔ اور جس آدمی کا سینہ مثبت نفسیات سے خالی ہو وہ اعلیٰ ربانی احساسات کا تجربہ نہیں کر سکتا۔ اُس کی زندگی میں بظاہر نماز روزہ دکھائی دے گا۔ مگر اس کا یہ نماز روزہ اُس کی زندگی کا صرف ایک رسمی حصہ ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2002 All issues