Al-Risala · December 2002 · page

جوابات

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۲

ہوگا۔ وہ ربانی نفسیات کا اظہار نہیں ہوسکتا۔

۸۔ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کی قائم کردہ جماعت اسلامی کے بارے میں میں نے اوپر اپنے خیالات کا اظہار کر دیا ہے۔ جہاں تک مولانا مودودی کی شخصیت کا تعلق ہے، اس سلسلہ میں عرض ہے کہ میرے مطالعہ کے مطابق، وہ کوئی مفکر (thinker) نہ تھے۔ آج کل ایک عجیب رواج یہ ہو گیا ہے کہ لوگ اپنی محبوب شخصیتوں کو خوش عقیدگی کے تحت مفکر لکھ دیا کرتے ہیں۔ مگر میرے نزدیک اس لفظ کا یہ استعمال درست نہیں۔ آج کل جن مسلم افراد کو مفکر کا نام دیا جاتا ہے، وہ سب یا تو شاعر تھے یا خطیب تھے یا ادیب۔ ذاتی طور پر میں مولانا مودودی کو ادیب اور انشا پرداز سمجھتا ہوں، نہ کہ حقیقی معنوں میں کوئی مفکر۔

مفکر یا تھنکر وہ ہے جو بصیرت (vision) کا حامل انسان ہو۔ جو اپنی بڑھی ہوئی تحلیلی قوت کے ذریعہ حال میں مستقبل کو دیکھے۔ جو متفرق حقائق کو ایک داخلی وحدت (inter-related whole) میں تبدیل کر سکے۔ جو ایک چیز اور دوسری چیز کے درمیان اُس فرق (difference) کو جانے جو صحت تفکیر کے لیے ضروری ہے۔ جو قریبی حالات سے اوپر اُٹھ کر سوچنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ جس کی سوچ مکمل طور پر رد عمل سے خالی ہو۔ جو منفی سوچ سے پوری طرح پاک ہو اور خالص مثبت سوچ کے تحت رائے قائم کر سکے۔ میرے نزدیک موجودہ زمانہ کی مسلم شخصیتوں میں سے کوئی بھی شخصیت (بشمول مولانا مودودی) ان شرائط پر پوری نہیں اترتی۔ اس لیے ان میں سے کوئی بھی مفکر کہے جانے کی مستحق نہیں۔ ان لوگوں کی فکر ردعمل کے تحت بنی جب کہ مفکر وہ ہے جو ابدی حقائق کی روشنی میں سوچ سکے۔ میرے نزدیک جماعت اسلامی کی سب سے بڑی ناکامی یہ ہے کہ اُس نے اپنے غیر فطری نظریہ کی بنا پر اپنے پیروؤں کو ایک دو طرفہ مشکل میں ڈال دیا۔ اب اُن کے لیے صرف دو میں سے ایک کا چوائس موجود ہے۔ یا تو وہ جماعت کے بانی کے نظریہ کے مطابق، طاغوتی نظام سے بے فائدہ لڑائی لڑ کر اپنے آپ کو تباہ کرلیں یا اپنے اور اپنے بچوں کی انٹرسٹ کی خاطر منافق بن کر زندگی گزاریں۔ جماعت اسلامی کے مبینہ نظریہ کے مطابق، آج کی پوری دنیا میں طاغوتی نظام قائم ہے اور

‹ Previous page Next page › Contents of December 2002 All issues

Printed page