جوابات
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۲
سوال
مسلم مصنفین کی کتابوں کو پڑھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ساری خدائی صرف مسلمانوں کے لئے ہے۔ خواہ وہ دنیا کے سب سے زیادہ محروم طبقہ ہوں۔ مگر وہ برابر یہ کہتے رہتے ہیں کہ "ساری کائنات بس ہمارے لئے تخلیق کی گئی ہے"۔ اس کی ایک دلچسپ مثال یہ ہے کہ مولانا شبیر احمد عثمانی اپنی تفسیر میں وما ارسلنك الا رحمة للعالمين کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "نیز حق تعالیٰ نے وعدہ فرما لیا ہے کہ پہلی امتوں کے برخلاف اس امت کے کافروں کو عام و مستأصل عذاب سے محفوظ رکھا جائے گا" (صفحہ ۴۲۸)۔ یہ کیا معاملہ ہے، اس کی وضاحت کریں (محمد سلیم، دہلی) جواب ۱۔ یہ بات بے بنیاد ہے کہ مسلم قوم خدا کے نزدیک کوئی افضل قوم ہے۔ شعب مختار (chosen people) کا عقیدہ خالص یہودی عقیدہ ہے، اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ بات قرآن وحدیث سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں جو فیصلہ ہوگا وہ ہر فرد کے اپنے ایمان وعمل کی بنیاد پر ہوگا، نہ کہ کسی قوم یا نسل یا گروہ سے وابستگی کی بنیاد پر۔
۲۔ تفسیر عثمانی کا جو اقتباس آپ نے نقل کیا ہے وہ بھی درست نہیں۔ یہ صحیح ہے کہ پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب عذاب مستأصل نہیں آئے گا۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کا تعلق صرف بعد کے مسلمانوں سے ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قانون الہی کا تعلق اس بات سے ہے کہ اب کوئی پیغمبر دنیا میں آنے والا نہیں۔ عذاب مستأصل صرف کسی ایسی قوم پر آتا ہے جس کے درمیان کوئی پیغمبر آئے اور وہ ان پر اتمام حجت کر دے۔ اس کے باوجود وہ قوم انکار کی روش پر قائم رہے۔ ایسی ہی قوم پر عذاب مستأصل آتا ہے، جیسے کہ قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود اور قوم فرعون پر آیا۔ اب ختم نبوت کے بعد چوںکہ دنیا میں کوئی پیغمبر آنے والا نہیں۔ اس لئے اب کسی کے اوپر عذاب مستأصل بھی نہیں آئے گا۔ سوال ماحولیاتی پرابلم (Ecological Problem) کے بارے میں اسلام کیا رہنمائی دیتا ہے۔ آج
‹ Previous page Next page › Contents of December 2002 All issues