Al-Risala · December 2002 · page

جوابات

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۲

راستہ دیکھیں تو وہ اس کو اپنا لیں گے (الاعراف ۱۴۶)

سوال

میں نے عالمی تاریخ کی کچھ کتابیں پڑھیں اور کچھ مورخین کے تبصرے پڑھے۔ ان کو پڑھ کر ایسا محسوس ہوا جیسے پوری انسانی تاریخ شورش اور ہنگاموں کی تاریخ ہے۔ تاریخ میں بہت کم ایسے لمحات ملتے ہیں جب کہ پرسکون اور معتدل ماحول میں انسان کو جینے کا موقع ملا ہو۔ تاریخ کے اس منظر کو دیکھ کر کچھ لوگ خدا کی خدائی پر شک کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ خدا اگر عادل ہے تو اس کی بنائی ہوئی دنیا میں اتنا زیادہ بگاڑ کیوں؟ براہ کرم اس سوال پر روشنی ڈالیں۔ (عبدالرحمن، نانڈیڑ) جواب دنیا کے بارے میں مذکورہ سوال اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کہ اس کو انسان کی نظر سے دیکھا جائے لیکن اگر دنیا کو خالق کی نظر سے دیکھا جائے تو نہایت آسانی سے اس کا جواب مل جاتا ہے۔ اور یہ یقین ہو جاتا ہے کہ جو کچھ ہوا وہی ہونا چاہئے تھا۔

اس معاملہ کو سمجھنے کے لئے ہمیں یہ جاننا چاہئے کہ موجودہ دنیا کے بارے میں خدا کا تخلیقی نقشہ (creation plan) کیا ہے۔ قرآن کے مطابق، وہ تخلیقی نقشہ امتحان (test) کے اصول پر مبنی ہے۔ موجودہ دنیا میں خدا نے انسان کو اس لئے نہیں بسایا کہ وہ یہاں عیش کرے۔ عیش کی زندگی انسان کو اُس کے عمل کے مطابق، آخرت میں ملے گی۔ موجودہ دنیا کا سارا نظام اس ڈھنگ پر بنا ہے کہ ہر انسان اور ہر گروہ امتحان کی کسوٹی پر آ سکے۔

تجربہ بتاتا ہے کہ معتدل حالات میں کسی انسان کی اصل حقیقت کا پتہ نہیں چلتا۔ لوگ خوبصورت لفظوں اور خوشنما کپڑوں میں اپنے آپ کو چھپائے رہتے ہیں۔ ایسی حالت میں لوگوں کو اکسپوز (expose) کرنے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ ان کی زندگی میں اضطراب (disturbance) لایا جائے۔ اس معاملہ میں انسان کی مثال انڈے جیسی ہے۔ اوپر سے دیکھنے میں ہر انڈا اچھا ہی معلوم ہوتا ہے۔ جب انڈوں کو توڑا جائے اس وقت یہ معلوم ہوتا ہے کہ کون انڈا اچھا تھا اور کون انڈا خراب۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2002 All issues

Printed page