جوابات
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۲
اللہ تعالی کو اس دنیا میں سب سے زیادہ جو چیز مطلوب ہے وہ امتحان ہے۔ اور امتحان کے لئے غیر معمولی حالات کا پیش آنا لازمی ہے۔ اس لئے بار بار ہر فرد اور گروہ کی زندگی میں غیر معمولی حالات پیدا کئے جاتے ہیں تاکہ یہ معلوم ہو کہ حقیقت کے اعتبار سے وہ کیسا تھا۔ وہ حقیقی معنوں میں حق پرست تھا یا اس نے صرف ظاہری طور پر حق کا نمائشی خول اپنے اوپر ڈال لیا تھا۔
سوال
کہا جاتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں ساری دنیا ایک ہو گئی ہے۔ اس کا خوبصورت نام گلوبلائزیشن ہے۔ مگر جیسا کہ بہت سے علماء نے لکھا ہے کہ یہ ایک فتنہ ہے۔ مغرب کی مسلم دشمن طاقتیں گلوبلائزیشن کے نام پر اسلام کو اپنے جال میں پھنسا لینا چاہتی ہیں۔ اس نئے خطرہ کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے۔ (ایک قاری الرسالہ، نئی دہلی)
جواب
گلوبلائزیشن میرے نزدیک فتنہ نہیں ہے بلکہ وہ ایک عظیم نعمت ہے۔ گلوبلائزیشن سے مراد یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں کمیونیکیشن اور دوسرے ذرائع اتنا زیادہ وسیع ہو گئے ہیں کہ ساری دنیا ایک گاؤں (global village) کی مانند ہو گئی ہے۔ یہ صورت حال ایک عظیم موقع ہے۔ اس دنیا میں خدا نے ہر ایک کو آزادی دی ہے۔ اس لیے دوسرے لوگ اگر اس کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کریں تو آپ کو اُن کے خلاف احتجاج کرنے کی ضرورت نہیں۔ آپ کے احتجاج سے یہ نہیں ہو سکتا کہ دوسرے لوگ ان مواقع سے فائدہ اٹھانا چھوڑ دیں۔
اصل ضرورت یہ ہے کہ ان جدید مواقع کو سمجھا جائے اور ان کو استعمال کیا جائے۔ حدیث میں آتا ہے کہ ایک وقت آئے گا جب کہ اللہ اسلام کے پیغام کو ساری دنیا کے ایک ایک گھر میں پہنچادے گا۔ جدید مواصلاتی ذرائع نے پہلی بار اس کو ممکن بنایا ہے کہ حق کی اشاعت کے اس خدائی منصوبہ کو مکمل کیا جاسکے۔
عقبہ بن نافع تابعی افریقہ میں اسلام کا پیغام پہنچاتے ہوئے اٹلانٹک کے ساحل تک پہنچ گئے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2002 All issues